عوام کے ٹیکسوں کا ایک ایک روپیہ قومی امانت ، لوٹ مار کا حساب دینا ہوگا ، ثمر ہارون بلور کا شفاف تحقیقات اور سخت جوابدہی کا عذم

عوام کے ٹیکسوں کا ایک ایک روپیہ قومی امانت ، لوٹ مار کا حساب دینا ہوگا ،  ثمر ہارون بلور کا شفاف تحقیقات اور سخت جوابدہی کا عذم

گورنر خیبرپختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کا چارج سنبھال لیا ہے۔ نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انہوں نے صوبے کی تعمیرِ نو، قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں صوبائی خزانے کے اربوں روپے کے اخراجات کی مکمل تصدیق نہ ہونے سمیت سنگین مالی بے ضابطگیوں کے انکشافات پر بھی انہوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ثمر ہارون بلور نے اہم ذمہ داری سونپنے پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان پر اعتماد اور ذمہ داری سونپنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبرپختونخوا ہمارا وژن ہے، صوبے کو دوبارہ آباد کرنا اور عوام کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ہماری اولین ترجیح ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور قدرتی آفات کے باعث مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے حالات میں متاثرہ علاقوں کی بحالی اور آبادکاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ صوبے میں جہاں بھی کوئی آفت، سانحہ یا مصیبت آئے گی، متاثرہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور دوبارہ آبادکاری کا عمل مختصر ترین وقت میں مکمل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ مشکل کی ہر گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور خیبرپختونخوا کی تعمیرِ نو اور متاثرہ شہریوں کی بحالی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔

دوسری جانب مشیر گورنر ثمر ہارون بلور نے مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والی اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں صوبائی خزانے سے ہونے والے اربوں روپے کے اخراجات کی مکمل تصدیق نہ ہو سکنا صوبے کے مالیاتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 72 ارب 46 کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ بجٹ کے مقابلے میں 104 ارب 26 کروڑ روپے کے اضافی اندراجات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اضافی اخراجات اور اندراجات کی بنیاد اور منظوری کی وضاحت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چار فرنچائزز میں بٹی جماعت پہلے اپنی اصل شناخت بتائے: گورنر فیصل کریم کنڈی کا پشاور میں بڑا اعلان

ثمر ہارون بلور کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں 153 ارب 68 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات غلط حساباتی مد میں ظاہر کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب 58 کروڑ روپے کا منفی بیلنس بھی مالیاتی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ 98 ارب 89 کروڑ روپے کے بیرونی قرضوں کا حساباتی ریکارڈ نامکمل ہونا بھی تشویشناک ہے، جبکہ غیر ملکی قرضوں اور سود کی مد میں 51 ارب 85 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

مشیر گورنر نے مزید کہا کہ صوبائی اندرونی قرضوں کا ریکارڈ 2017-18ء کے بعد اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، جبکہ وفاقی حکومت سے حاصل کردہ قرضوں کا ریکارڈ بھی 2013-14ء کے بعد اپ ڈیٹ نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں 20 ارب 20 کروڑ روپے کے اضافی اندراجات بھی وضاحت طلب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ میں صحت، تعلیم، پولیس، شاہراہوں اور دیگر اہم محکموں کے بجٹ میں اربوں روپے کے اضافی اندراجات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان معاملات کی شفاف جانچ اور ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے تاکہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے قومی وسائل کے استعمال کا مکمل حساب سامنے آ سکے۔

ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والا ایک ایک روپیہ قومی امانت ہے اور اس کا مکمل حساب دینا ہوگا۔ عوامی وسائل کا تحفظ، مالی شفافیت اور جوابدہی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے تمام اعتراضات کی شفاف جانچ کی جائے اور جہاں بے ضابطگی ثابت ہو، وہاں ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کا چارج سنبھالنے کے ساتھ ثمر ہارون بلور نے ایک طرف قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثرہ عوام کی فوری مدد اور صوبے کی تعمیرِ نو کو ترجیح قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب سابقہ صوبائی دور کے مالیاتی معاملات پر آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے اعتراضات کو بھی جوابدہی اور شفاف تحقیقات کا معاملہ قرار دیا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles