اینڈرائیڈ اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لیے سیکیورٹی کا ایک سنگین خطرہ سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے ہیکرز صارف کی کسی مداخلت کے بغیر مخصوص ٹیکسٹ میسجز بھیج کر فون کو کریش یا مکمل طور پر ناکارہ بنا سکتے ہیں۔
سیکیورٹی محقق مارک بلاسزک کے مطابق اس خامی کے ذریعے تیار کیا گیا ایک خصوصی پیغام، جسے ’ایس ایم ایس آف ڈیتھ‘ کا نام دیا گیا ہے، اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو متاثر کر سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نقصان دہ پیغام صارف کے ان باکس میں دکھائی بھی نہیں دیتا اور نہ ہی اس کی کوئی اطلاع موصول ہوتی ہے۔ تاہم، یہ فون کے کالنگ سسٹم کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے باعث جاری فون کالز منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ ایمرجنسی سروسز سے رابطہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
محقق کے مطابق تقریباً 20 ایسے نقصان دہ پیغامات بھیجنے سے فون مسلسل کریش ہونے یا بوٹ لوپ میں پھنسنے کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس خامی سے گوگل پکسل اور سام سنگ گلیکسی سمیت مختلف اینڈرائیڈ ڈیوائسز متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس مسئلے کا تعلق اینڈرائیڈ 12 سے موجود ایک کوڈ سے بتایا گیا ہے۔
اس سیکیورٹی خامی کو CVE-2026-58882 کا نام دیا گیا ہے اور اسے انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے۔ مارک بلاسزک کے مطابق انہوں نے 5 مئی کو گوگل کو اس خامی سے آگاہ کیا تھا، تاہم ابتدائی طور پر کمپنی نے اسے سیکیورٹی کا مسئلہ تسلیم نہیں کیا۔ بعد ازاں 29 اکتوبر کو محقق نے اس خامی کی تفصیلات اور اس کا عملی مظاہرہ عوام کے سامنے پیش کر دیا۔
دوسری جانب اینڈرائیڈ کے کوڈ ریکارڈز کے مطابق گوگل نے 15 جون کو ہی اس مسئلے کا حل تیار کر لیا تھا، جبکہ جولائی میں سیکیورٹی پری ویوز کے ذریعے بھی یہ حل فراہم کیا گیا۔
محقق کا کہنا ہے کہ گوگل نے اینڈرائیڈ 14 سے 17 تک کے لیے اکتوبر کی سیکیورٹی اپ ڈیٹس میں بھی اس خامی کا حل شامل کر دیا ہے۔
ماہرین نے اینڈرائیڈ صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز کی تازہ ترین سیکیورٹی اپ ڈیٹس فوری انسٹال کریں۔ خاص طور پر پرانے اور اپ ڈیٹ نہ ہونے والے فونز استعمال کرنے والوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسے ڈیوائسز اب بھی اس خطرے کی زد میں ہو سکتے ہیں۔