کیا یہی تھی تبدیلی اور نام نہاد جدید ٹیکنالوجی پشاور کی اہم شاہراہ پر سڑک کے بیچوں بیچ پولز کی موجودگی نے پی ٹی آئی کے ترقیاتی دعووں کا جنازہ نکال دیا
Home - آزاد انتخاب - کیا یہی تھی تبدیلی اور نام نہاد جدید ٹیکنالوجی پشاور کی اہم شاہراہ پر سڑک کے بیچوں بیچ پولز کی موجودگی نے پی ٹی آئی کے ترقیاتی دعووں کا جنازہ نکال دیا
خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے طویل دورِ اقتدار کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی پر ایک اور سوالیہ نشان سامنے آگیا۔ پشاور کی مصروف دالازاک روڈ کی تعمیرِ نو اور توسیع کے باوجود بجلی کے متعدد کھمبے سڑک کے عین درمیان موجود ہیں جو ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے کے ساتھ شہریوں کی زندگیوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ سڑک کی توسیع کے وقت بجلی کے کھمبے منتقل نہ کیے جانے کا معاملہ ناقص منصوبہ بندی اور متعلقہ محکموں کے درمیان عدم رابطے کی عکاسی کرتا ہے۔
دالازاک روڈ پشاور کی اہم اور مصروف شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں شہری، طلبہ، موٹر سائیکل سوار اور دیگر مسافر گزرتے ہیں۔ شاہراہ کو کشادہ کرنے کا مقصد ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور شہریوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنا تھا، لیکن سڑک کے درمیان کھڑے بجلی کے کھمبوں نے اس منصوبے کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رات کے وقت کم روشنی اور تیز رفتار ٹریفک کے باعث یہ کھمبے موٹر سائیکل سواروں اور ڈرائیوروں کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔
یکم نومبر 2026ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دالازاک روڈ پر بجلی کے کھمبوں سے ٹکرا کر ایک شخص جاں بحق ہوا، جبکہ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایسے حادثات میں متعدد افراد زخمی اور جاں بحق ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ سڑک کشادہ کر دی گئی، لیکن کھمبے اپنی جگہ موجود رہے اور متعلقہ اداروں نے اس خطرے کو بروقت ختم نہیں کیا۔ یہ صورتحال محض ترقیاتی منصوبے کی خامی نہیں بلکہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ سے متعلق سنگین غفلت کا معاملہ بن چکی ہے۔
دالازاک روڈ پر بجلی کے کھمبوں کا مسئلہ نیا نہیں۔ اکتوبر 2015ء میں بھی اسی شاہراہ پر تجاوزات کے خاتمے کے بعد سڑک کے درمیان رہ جانے والے بجلی کے کھمبوں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس وقت بھی شہریوں نے متعلقہ حکام سے کھمبے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جولائی 2023ء میں بھی دالازاک روڈ کی تعمیر کے دوران بجلی کے کھمبوں کے درمیان سڑک پر موجود رہنے کا معاملہ رپورٹ ہوا۔ متعدد برس گزرنے کے باوجود مسئلے کا مکمل حل نہ ہونا ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی، نگرانی اور محکموں کے باہمی رابطے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
دالازاک روڈ کی صورتحال خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کی تیاری عمل درآمد اور نگرانی کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت اجاگر کرتی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سڑک کے درمیان موجود تمام بجلی کے کھمبے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیے جائیں، کام مکمل ہونے تک خطرناک مقامات پر نمایاں انتباہی نشانات اور روشنی کا انتظام کیا جائے اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ منصوبے کی توسیع کے باوجود یہ کھمبے کیوں نہ ہٹائے جا سکے۔
شاہراہوں کی تعمیر کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہوتا ہے، انہیں حادثات کے خطرے سے دوچار کرنا نہیں۔ دالازاک روڈ کا معاملہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صرف کھمبے منتقل کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ منصوبہ بندی اور نگرانی میں کوتاہی کے ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جائے تاکہ آئندہ کسی ترقیاتی منصوبے میں ایسی غفلت شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔