اختلاف برداشت نہ ہونے پر کیا اب صحافیوں پر کتے چھوڑے جائیں گے؟ مزمل سہروردی کی صحافی طیب سرور کو ہراساں کرنے پر فضل الرحمن پر تنقید

اختلاف برداشت نہ ہونے پر کیا اب صحافیوں پر کتے چھوڑے جائیں گے؟ مزمل سہروردی کی صحافی طیب سرور کو ہراساں کرنے پر فضل الرحمن پر تنقید

آزاد ڈیجیٹل کے صحافی طیب سرور پرتجاوزات کے نوٹس کی رپورٹنگ  پر کتے چھوڑنے و دھمکیاں دینے کے معاملے پر سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار مزمل سہروردی بھی بول اٹھے، انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان سے جواب مانگ لیا ہے کہ آخر صحافیوں کو اس طرح تشدد اور ہراسانی کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو  میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے حامیوں کی جانب سے آزاد دیجیٹل کے صحافی طیب سرور کو نشانہ بنائے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اورسوال اٹھایا ہے کہ آخر مولویوں نے مدارس میں کتے پالنے کب سے شروع کردیے ہیں، اور اس حوالے سے مولانا کو وضاحت دینا ہوگی ۔

مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ صحافت ایک انتہائی مشکل پیشہ ہے جہاں ملک کے بہت سے صحافیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور تشدد کا سامنا کیا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب مولانا فضل الرحمان بھی اسی راستے پر نکل پڑے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں “ڈونٹ کل دی میسنجر” (پیغام رساں کو قتل نہ کرو) کا اصول مانا جاتا ہے کیونکہ صحافیوں کا کام صرف حقائق اور خبریں عوام تک پہنچانا ہے۔

سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے نیوز سٹائل یا رپورٹنگ سے اختلاف کر سکتے ہیں اور متفق نہ ہونے کا حق رکھتے ہیں، لیکن سیاسی برداشت سیاستدان کا بنیادی جزو ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :اسلام آباد: مدرسہ تجاوزات کی کوریج پر آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں و ہراسانی، کتے چھوڑدیے گئے، تھانہ مارگلہ میں درخواست جمع

 مزمل سہروردی نے سخت الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر سیاستدان یا ان کے حامی رپورٹنگ سے ناخوش ہیں تو اس کا یہ ہرگز طریقہ نہیں ہے کہ وہ صحافیوں پر کتے چھوڑ دیں یا جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

صحافت جیسے کٹھن اور جان جوکھوں والے پیشے میں سچ بیان کرنے پر صحافیوں کو نشانہ بنانا اور دھمکیاں دینا جمہوریت اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر براہِ راست کاری ضرب ہے۔ اگر یہ  رہنما اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھیں گے، اور اختلافِ رائے پر قابو پانے کے لیے اس قبیح اور ہرزہ سرائی کا سہارا لیں گے، تو یہ معاشرہ جنگل کے قانون کی طرف لوٹ جائے گا۔

فضل الرحمان کو اس سنگین صورتحال پر محض خاموشی اختیار کرنے کے بجائے فوری طور پر واضح جواب دینا ہوگا کہ کیا ان کے حامیوں کو صحافیوں کی آزادی اور عزتِ نفس پامال کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے؟

editor

Related Articles