امریکی وسط مدتی انتخابات، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کو برتری

امریکی وسط مدتی انتخابات، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کو برتری

امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو شکست کا سامنا ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے اہم کامیابیوں کی جانب قدم بڑھا دیے ہیں۔

امریکا میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں مختلف ریاستوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

ابتدائی سرکاری و انتخابی نتائج کے مطابق مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والے اعداد و شمار نے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی سیاسی طاقت کا امتحان آج، امریکی سینیٹ کی 11 نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ

مختلف میڈیا رپورٹس اور انتخابی تجزیاتی اداروں کے مطابق سینیٹ کے معرکے میں ڈیموکریٹس اب تک 46 نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، جبکہ ری پبلیکن پارٹی کے حصے میں 36 سیٹیں آئی ہیں۔

دوسری جانب گورنرز کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے سبقت حاصل کرتے ہوئے 15 نشستیں جیت لی ہیں جبکہ ریپبلکنز کو 10 نشستیں ملی ہیں۔

ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی فیصلہ کن برتری

218 نشستوں کے حامل اہم ترین ایوانِ نمائندگان کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے میدان مارتے ہوئے 118 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے، جبکہ ری پبلیکنز کو اب تک 66 نشستیں ملی ہیں۔

اس صورتحال کے بعد معروف انتخابی ادارے ’ڈیسیژن ڈیسک‘ نے باضابطہ طور پر یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شمالی کیرولینا سے ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر کی متوقع فتح اس بات کی عکاسی کر رہی ہے کہ یہ کامیابی سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کے کنٹرول اور پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

مشی گن میں مسلم امیدوار کی شاندار کارکردگی

انتخابات کے دوران مشی گن کے حلقے سے ایک اہم اور دلچسپ پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سینیٹ کے لیے کھڑے ہونے والے مسلمان ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کو نمایاں برتری حاصل ہو گئی ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق عبدل السید کو 55.2 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں ری پبلکن امیدوار راجرز 42.2 فیصد ووٹ حاصل کر پائے ہیں۔

مزیدپڑھیں:ایران کے ساتھ ویتنام جیسی لمبی جنگ نہیں ہوگی، مذاکرات ناکام رہے تو فوجی کارروائی کی جائے گی،ٹرمپ

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وسط مدتی انتخابات کا یہ مرحلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور حکومت کے لیے ایک بڑا ریفرنڈم ثابت ہو رہا ہے۔

تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں حکمراں جماعت کو ہمیشہ ایوان میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم موجودہ سیاسی فضا میں ڈیموکریٹس کی یہ سنبھال اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی عوام میں موجودہ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف ایک موثر سیاسی ردعمل موجود ہے۔

اگر حتمی نتائج بھی اسی رجحان پر برقرار رہے تو وائٹ ہاؤس کے لیے آئندہ کے قانونی اور پالیسی امور منظور کروانا انتہائی کٹھن ہو جائے گا۔

Related Articles