حقائق بے نقاب ہونے پر فضل الرحمان کے چہیتوں کی دہشت گردی ، راشد سومرو، ضیاء الرحمان اور ناصر سومرو کی آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو جان سے مارنے کی ہولناک دھمکیاں
Home - اہم خبریں - حقائق بے نقاب ہونے پر فضل الرحمان کے چہیتوں کی دہشت گردی ، راشد سومرو، ضیاء الرحمان اور ناصر سومرو کی آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو جان سے مارنے کی ہولناک دھمکیاں
آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی مبینہ دھمکیوں، ہراساں کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے باضابطہ تحقیقات اور فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔ درخواست میں مولانا فضل الرحمٰن کی مبینہ ایما پر کام کرنے والے جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں مولانا ضیاء الرحمٰن، راشد سومرو، ناصر سومرو، مفتی اویس اور متعدد فیس بک پروفائلز کے کرداروں کی تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے۔
آزاد ڈیجیٹل گروپ آف میڈیا کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو دی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ادارے کے سی ای او اور ان کے خاندان کے افراد کو سنگین نوعیت کی دھمکیوں، دباؤ اور ہراسانی کا سامنا ہے جس کے باعث ان کی جان و مال اور ذاتی تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ درخواست کے مطابق آزاد ڈیجیٹل ایک فعال صحافتی ادارہ ہے جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مختلف عوامی، سیاسی اور سماجی معاملات سے متعلق تحقیقاتی پروگرام نشر کرتا ہے۔ حال ہی میں ادارے نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جے یو آئی (ف) کی اعلیٰ قیادت کے فکری تضادات اور ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی پالیسی کو بے نقاب کیا، جس کے بعد ادارے کے سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو جان لیوا دھمکی آمیز پیغامات کا سامنا کرنا پڑا۔
این سی سی آئی اے کو جمع کرائی گئی درخواست میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے قریبی حلقوں اور خاندان سے وابستہ افراد بشمول مولانا ضیاء الرحمٰن ولد مفتی محمود، راشد سومرو ولد خالد سومرو، ناصر سومرو ولد خالد سومرو اور مفتی اویس ولد عزیز الرحمٰن کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ درخواست میں ان افراد کی سرگرمیوں اور دھمکیوں کے معاملے میں کردار کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خصوصاً راشد سومرو کے حوالے سے درخواست میں سنگین دھمکیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ یہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ جب بھی جے یو آئی (ف) کی کرپشن اور منفی سیاست پر بات کی جائے، تو وہ سچائی کا سامنا کرنے کے بجائے غنڈہ گردی اور ہراسانی کا سہارا لیتے ہیں۔
درخواست میں چار مخصوص فیس بک پروفائلز کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کے بارے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں دھمکی آمیز سرگرمیوں ہراسانی اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے منظم طریقے سے استعمال کیا گیا۔ آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے متعلقہ فیس بک پروفائلز کے لنکس، مبینہ دھمکی آمیز پوسٹس کے یو آر ایل اور سوشل میڈیا تبصروں کے اسکرین شاٹس بھی درخواست کے ساتھ منسلک کیے گئے ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ ادارہ ان فیس بک اکاؤنٹس کے اصل مالکان، آپریٹرز اور ان کے پیچھے چھپے ماسٹر مائنڈز کی شناخت کرے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آزادیٔ صحافت پر حملے اور دھمکی آمیز مواد کی اشاعت میں کون کون ملوث تھا۔
درخواست کے متن کے مطابق آزاد ڈیجیٹل نے اپنے آفیشل فیس بک پلیٹ فارم پر دو معلوماتی پروگرام نشر کیے تھے جن کے لنکس بھی تحقیقاتی ادارے کو فراہم کیے گئے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان پروگراموں کی اشاعت، جس میں جے یو آئی (ف) کے دوہرے معیار کو نشانہ بنایا گیا تھا کے بعد ادارے کے سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو براہِ راست رابطوں، فیس بک پوسٹس اور دھمکی آمیز تبصروں کے ذریعے ہراساں کرنے کا ایک منظم سلسلہ شروع کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات نے سی ای او اور ان کے خاندان کے افراد میں اپنی ذاتی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں تحقیقاتی ادارے سے چار بنیادی اقدامات کی استدعا کی گئی ہے:
ادارے کے سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو دی جانے والی مبینہ جان لیوا دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات کی باضابطہ اور فوری انکوائری شروع کی جائے۔
مولانا ضیاء الرحمٰن، راشد سومرو، ناصر سومرو اور مفتی اویس کے مبینہ کردار کی تحقیقات کی جائیں، بالخصوص راشد سومرو سے منسوب براہِ راست جان سے مارنے کی دھمکی کی چھان بین کی جائے۔
درخواست میں نشاندہی کردہ فیس بک پروفائلز کے مالکان، آپریٹرز اور دھمکی آمیز تبصرے کرنے والے افراد کی شناخت قانونی اور تکنیکی ذرائع سے کی جائے۔
تحقیقات کے دوران دھمکیاں دینے، ان کی معاونت کرنے یا مبینہ طور پر ایسی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت ترین کارروائی کی جائے۔
درخواست میں واضح طور پر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دھمکیوں کی سنگینی اور ادارے کے سی ای او سمیت ان کے اہلِ خانہ کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر معاملے کو انتہائی فوری اور اعلیٰ ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے۔ آزاد ڈیجیٹل نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں اور ذمہ دار ثابت ہونے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فضل الرحمٰن اور ان کے زیرِ اثر چلنے والے نیٹ ورک کا یہ طرزِ عمل ان کے فکری تضادات کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں ایک طرف وہ جمہوریت اور حقوق کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف حقائق سامنے لانے والے صحافیوں کو مبینہ طور پر خاموش کرانے کے لیے اپنے کارندوں کو کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں۔ اس معاملے میں این سی سی آئی اے کی جانب سے تحقیقات کے آغاز کے بعد ہی تمام پسِ پردہ حقائق اور نامزد افراد کی قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین ہو سکے گا۔