انٹرویو میں نوجوان کی انوکھی فرمائش، کمپنی کا ملازمت دینے سے انکار

انٹرویو میں نوجوان کی انوکھی فرمائش، کمپنی کا ملازمت دینے سے انکار

سافٹ ویئر ڈویلپر کی نوکری کے لیے انٹرویو دینے والے نوجوان نے ایسی فرمائش کر دی کہ کمپنی نے ملازمت دینے سے ہی انکار کر دیا۔

عام طور پر ملازمت کے حصول کے لیے امیدوار انٹرویو میں اپنی قابلیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ایک نوجوان نے انٹرویو لینے والے پینل کے سامنے ایسا مطالبہ رکھ دیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور صارفین اس پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ نوجوان کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ بعض اس کے مطالبے کو غیر مناسب قرار دے رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انٹرویو ایک سافٹ ویئر ڈیولپر کی ملازمت کے لیے لیا جا رہا تھا۔ کوڈنگ اسیسمنٹ کے دوران امیدوار نے مطالبہ کیا کہ اسے چیٹ جی پی ٹی ، کلاڈ اور کرسرجیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:خزاں میں درختوں پر رنگوں کی بہار کیوں آتی ہے؟ جانیں اس کی وجہ

امیدوار کا مؤقف تھا کہ جب جدید دور میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے لیے اے آئی ٹولز دستیاب ہیں اور ان کی مدد سے چند سیکنڈ میں کوڈ تیار کیا جا سکتا ہے تو پھر کسی مسئلے کو خود حل کرنے میں 45 منٹ صرف کرنے کا کیا فائدہ؟

تاہم انٹرویو لینے والے پینل نے واضح کیا کہ کوڈنگ راؤنڈ کا مقصد امیدوار کی بنیادی پروگرامنگ، مسئلے کو سمجھنے اور خود اسے حل کرنے کی صلاحیت جانچنا ہے۔

اس پر امیدوار نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی دفتری ماحول میں سافٹ ویئر ڈیولپرز پہلے ہی اے آئی ٹولز کی مدد سے کام کر رہے ہیں، اس لیے انٹرویو کے دوران بھی ان کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیے۔

یہ بھی پرھیں:لاہور میں موجود 176 سالہ پودا، جس کی نسل ڈائنوسارز سے بھی قدیم ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ امیدوار نے انٹرویو کے دیگر سوالات کے جوابات دینے کے بجائے اے آئی ٹولز استعمال کرنے پر ہی اصرار جاری رکھا۔بالآخر کمپنی کی ریکروٹمنٹ ٹیم نے ای میل کے ذریعے امیدوار کو آگاہ کیا کہ اسے ملازمت کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔

کمپنی نے اسے مشورہ دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیولپمنٹ کے طریقوں کو سیکھنے کے ساتھ اپنی بنیادی پروگرامنگ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنائے۔

یہ واقعہ ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ جب اے آئی تیزی سے ملازمتوں اور کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے تو کیا روایتی انٹرویو کے طریقے بھی بدلنے کی ضرورت ہے؟

editor

Related Articles