تہران نے 6000 کلومیٹر رینج کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنانے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اس کی رینج 15000 کلومیٹر تک بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، جو امریکی سرزمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب چیئرمین جنرل حیات مقدم نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران 6000 کلومیٹر تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کرنے کے لیے تکنیکی اور عسکری اعتبار سے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس نوعیت کے جدید میزائلوں کی تیاری سے ایرانی عسکری صلاحیت براہِ راست امریکی سرزمین تک پہنچنے کے قابل ہو جائے گی، جو خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ان میزائلوں کی مار کی حد کو بڑھا کر 15000 کلومیٹر تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔
دفاعی وزارت اور پاسدارانِ انقلاب کا مشترکہ لائحہ عمل
مذکورہ عسکری منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وزارتِ دفاع اور پاسدارانِ انقلاب کو مشترکہ طور پر ٹاسک سونپنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
اس ضمن میں وزیرِ دفاع کو باضابطہ طور پر بین البراعظمی میزائلوں کی تیاری کے لیے درخواست پیش کر دی گئی ہے تاکہ دونوں ادارے باہم اشتراکِ عمل سے اس اسٹریٹجک منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔
ایٹمی پروگرام اور سپریم لیڈر کی حتمی منظوری کی شرط
ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پھیلنے والی قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ایٹمی بم کی تیاری فی الحال قومی سلامتی کمیشن کے سرکاری ایجنڈے کا حصہ نہیں۔
پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے انفرادی تقاریر میں جوہری ہتھیاروں کا ذکر ضرور کیا ہے، تاہم اس حساس موضوع پر کوئی باضابطہ بحث یا حکومتی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ کسی بھی قسم کا جوہری قدم اٹھانے کے لیے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی باضابطہ اجازت اور فتویٰ بنیادی شرط ہے۔
موجودہ عالمی تنازعات اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران کا یہ اعلان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ روایتی عسکری دباؤ اور طویل اقتصادی پابندیوں کے باوجود تہران کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کی تیاری پر زور دینا دراصل دفاعی خود کفالت اور جارحیت کے خلاف ایک مضبوط دفاعی ڈھال تیار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بین البراعظمی صلاحیت کے حامل میزائل نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر عسکری مساوات کو نئے خطوط پر استوار کرتے ہیں، جہاں طاقت کا توازن فریقین کی عسکری صلاحیتوں کے مرہونِ منت ہوتا ہے۔
اس قسم کے بیانات بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور دفاعی برتری حاصل کرنے کی روایتی ایرانی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے مغربی دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑنا فطری امر ہے۔