امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں آنے سے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی سیاسی و قانونی مشکلات میں شدید اضافے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ہیگسیتھ کو کانگریس کی جانب سے سخت تفتیش اور ممکنہ مواخذے (Impeachment) کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں چند ریپبلکن ارکان کی حمایت بھی ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
کانگریس کی نگرانی اور ایران پالیسی پر سخت سوالات
امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس کے ارکان ایران سے متعلق جنگی فیصلوں، مجموعی فوجی حکمتِ عملی، جنگ کے بھاری اخراجات اور فیصلے سازی کے دوران کانگریس کو اعتماد میں نہ لینے کے معاملے پر وزیرِ دفاع سے جواب طلبی کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایوان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس کے پاس کمیٹیوں کی صدارت اور ہیگسیتھ کو باقاعدہ سماعتوں کے لیے طلب کرنے اور سمن جاری کرنے کے قانونی اختیارات ہوں گے۔
اندرونی سیاسی کشمکش
اس سیاسی بحران کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی قرارداد کسی ڈیموکریٹ نے نہیں، بلکہ ستمبر 2026 میں خود ان کی اپنی پارٹی کے ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی (Thomas Massie) نے پیش کی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت ریپبلکن قیادت نے مواخذے کی قرارداد پر فوری ووٹنگ سے بچنے کے لیے ستمبر میں ایوان کا اجلاس مقررہ وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا تھا تاہم، اب ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی برتری کے بعد اس معطل شدہ کارروائی کے دوبارہ فعال ہونے اور واشنگٹن میں ایک نئی شدید سیاسی کشمکش کے آغاز کے واضح امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
نتخابات میں شکست محض سیٹوں کا نقصان نہیں ہوتی، بلکہ واشنگٹن کی طاقتور کمیٹیوں کی چابیاں مخالفین کے حوالے کرنے کا نام بھی ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی آمد صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ پیٹ ہیگسیتھ کے لیے ایک کڑے امتحان کا آغاز ہے جن سوالات اور مواخذے کی جن کارروائیوں سے ریپبلکن قیادت اب تک بچتی آ رہی تھی، اب انہی سوالات کے ساتھ ہیگسیتھ کو ایک مخالف کانگریس کا سامنا کرنا ہوگا۔