وفاقی آئینی عدالت میں جے یو آئی (ف) کی جانب سے دائر کردہ تمام درخواستوں کو خارج کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) اور حنا بی بی کی جانب سے رکن قومی اسمبلی صدف احسان کے خلاف دائر کردہ درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی ہیں۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض برقرار رکھتے ہوئے کیس خارج کر دیا۔
وکیل جے یو آئی نے کہا کہ جے یو آئی نے مخصوص نشستوں کیلئے چار نام دیے، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کیلئے فہرست میں تبدیلی نہیں کر سکتا، پاکستان کی تاریخ کا یہ منفرد کیس ہے۔
وکیل جے یو آئی نے مؤقف اپنایا کہ جے یو آئی کہہ رہی ہے صدف احسان ان کی امیدوار نہیں ہے، لیکن ہمیں کہا جارہا ہے نہیں یہی آپکی جماعت کی امیدوار ہے، اگر سیاسی جماعت نے درست فہرست نہیں دی اس سے درستگی مانگی جاسکتی تھی۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینئر وکیل اور رہنما کامران مرتضیٰ اس مقدمے کی پیروی کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے، تاہم قانونی جنگ میں انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم عدالت نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ صدف احسان کے حق میں سنا دیا۔