خیبرپختونخوا کی نئی حکومت نے بیوروکریسی میں انتظامی تبدیلیوں کا آغاز کردیا، سیکرٹری اطلاعات بختیار خان کو عہدے سے ہٹا کر محمد انور خان کو نیا سیکرٹری اطلاعات مقرر کردیا گیا، اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بختیار خان کو نئی حکومت کے ساتھ عدم تعاون اور سرکاری امور کی انجام دہی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی شکایات کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ان پر سابق پی ٹی آئی حکومت کی بحالی کے حوالے سے پروپیگنڈا کرنے اور سرکاری ذمہ داریوں کے بجائے سابق سیاسی سیٹ اَپ کے حق میں سرگرم رہنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
بیوروکریسی میں مزید تبدیلیوں کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی نئی حکومت نے سرکاری مشینری کی کارکردگی اور افسران کے طرزِ عمل کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ حکومتی امور میں عدم تعاون اور انتظامی معاملات میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے افسران بھی حکومتی نگرانی میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق بیوروکریسی میں پی ٹی آئی کے سابقہ حکومتی سیٹ اَپ سے وابستہ سمجھے جانے والے دیگر افسران بھی نئی حکومت کے ریڈار پر آگئے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید انتظامی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
محمد انور خان کو نئی ذمہ داری سونپ دی گئی
بختیار خان کی برطرفی کے بعد محمد انور خان کو سیکرٹری اطلاعات خیبرپختونخوا مقرر کردیا گیا ہے۔ تقرری سے متعلق سرکاری اعلامیہ جاری ہونے کے بعد محکمہ اطلاعات کی سربراہی نئے سیکرٹری کے سپرد ہوگئی ہے۔
نئی حکومت کی جانب سے بیوروکریسی میں یہ تبدیلی انتظامی معاملات پر اپنی گرفت مضبوط بنانے اور سرکاری مشینری کو حکومتی ترجیحات کے مطابق فعال کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم مزید افسران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
