پاکستان معاشی بحران سے نکل کر استحکام کی منزل پر پہنچ گیا، آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر کا اعتراف

پاکستان معاشی بحران سے نکل کر استحکام کی منزل پر پہنچ گیا، آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر کا  اعتراف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں ٹیکسوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ معاشی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کا تسلسل بھی برقرار رہنا چاہیے۔

آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر ماہر بنیجی نے ایس ڈی پی آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی اعتبار سے ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اقتصادی اصلاحات پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی بحران سے نکل کر معاشی استحکام تک کا سفر طے کیا ہے، تاہم اقتصادی ترقی کی رفتار اور معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ماہر بنیجی کے مطابق پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی ترقی کا سفر جاری رکھا، جو اقتصادی استحکام کی جانب پیش رفت ہے۔

آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ پاکستان میں ٹیکسوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ٹیکس محصولات اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب، یعنی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ایما زاوکوان فین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نجی شعبے کو ترقی کے مزید مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی سے برآمدات بڑھانے کی صلاحیت پیدا ہوگی، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے صنعتی پیداواری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر ایما زاوکوان فین نے افرادی قوت کی تربیت اور معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی میں خواتین کا حصہ 50 فیصد سے زائد ہے، لیکن وہ معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہیں۔ خواتین کو پیشہ ورانہ تربیت اور کاروباری مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ نجی شعبے، بالخصوص کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

Related Articles