ماضی کی سیاسی سرپرستی اور لاپرواہی کا خاتمہ ، خیبر پختونخوا کی 35 لیبر کالونیوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لیے گرینڈ آپریشن شروع

ماضی کی سیاسی سرپرستی اور لاپرواہی کا خاتمہ ، خیبر پختونخوا کی 35 لیبر کالونیوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لیے گرینڈ آپریشن شروع

خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی اور املاک پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف جاری مہم کے تحت ورکرز ویلفیئر بورڈ نے صوبے بھر کی 35 لیبر کالونیوں کو تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے ابتدائی مرحلے میں پشاور کی ایک لیبر کالونی میں کارروائی کے دوران 56 گھر سیل جبکہ 170 گھروں میں تجاوزات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا شہر عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں تقریباً 35 لیبر کالونیاں موجود ہیں، جہاں غیر قانونی قابضین اور تجاوزات کے خلاف مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کی تین لیبر کالونیاں ہیں، جن میں بالترتیب 300، 224 اور 200 گھر موجود ہیں۔ آپریشن کا آغاز 300 گھروں پر مشتمل کالونی سے کیا گیا، جہاں 170 گھروں میں تجاوزات کی نشاندہی کرکے انہیں نشان زد کر دیا گیا ہے۔

سیکرٹری کے مطابق متعلقہ رہائشیوں کو اتوار تک تجاوزات رضاکارانہ طور پر ختم کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔ مقررہ وقت تک غیر قانونی تعمیرات نہ ہٹانے کی صورت میں پیر کو مشینری کے ذریعے انہیں مسمار کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ہنگو کے علاقے دوآبہ میں گھر کی چھت گرنے کا ہولناک حادثہ، 4 کمسن بچیاں جاں بحق

شہر عالم نے بتایا کہ اسی کالونی میں تقریباً 56 گھروں پر غیر قانونی قبضے سامنے آنے کے بعد انہیں سیل کر دیا گیا ہے۔ ان گھروں میں ایسے افراد مقیم تھے جن کا ورکرز ویلفیئر بورڈ یا متعلقہ لیبر کالونی میں رہائش کے استحقاق سے کوئی قانونی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کی دیگر دو لیبر کالونیوں میں بھی آپریشن کیا جائے گا، جس کے بعد نوشہرہ کے علاقے امان گڑھ سمیت صوبے کی دیگر لیبر کالونیوں میں کارروائیوں کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔

سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ کے مطابق پشاور اور نوشہرہ کے علاقے امان گڑھ میں غیر قانونی قبضوں کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے، جہاں بڑی تعداد میں غیر متعلقہ افراد لیبر کالونیوں میں رہائش پذیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کالونیوں میں بند ہونے والے صنعتی یونٹس سے تعلق رکھنے والے افراد، ریٹائرڈ ملازمین اور بیوائیں بھی مقیم ہیں۔ ریٹائرڈ ملازمین اور بیواؤں کو مہلت دی گئی ہے، تاہم ایسے افراد جن کا رہائش کا کوئی قانونی استحقاق نہیں، ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

شہر عالم کا کہنا تھا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی رہائشی سہولتیں مزدوروں کے لیے مختص ہیں، لیکن غیر قانونی قبضوں کے باعث بہت سے اصل حق دار ان سہولتوں سے محروم ہیں۔ تمام کالونیوں کو غیر قانونی قبضوں سے پاک کرکے مستحق مزدوروں کو ان کا حق فراہم کیا جائے گا۔

پشاور میں جاری آپریشن میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار بھی شریک ہیں۔ تجاوزات کی نشاندہی، غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے اور سرکاری رہائشی املاک کی واگزاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ نے واضح کیا کہ صوبے کی تمام 35 لیبر کالونیوں میں مرحلہ وار آپریشن کیا جائے گا اور غیر قانونی قبضوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles