ایران جنگ ختم کرانے کے لیے امریکا کی چین سے مدد کی درخواست، تہران تک واشنگٹن کا پیغام پہنچ گیا

ایران جنگ ختم کرانے کے لیے امریکا کی چین سے مدد کی درخواست، تہران تک واشنگٹن کا پیغام پہنچ گیا

امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے چین سے سفارتی کردار ادا کرنے کی درخواست کر دی ہے، جس کے بعد بیجنگ نے واشنگٹن کا پیغام تہران تک پہنچا دیا۔ 

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اور آبنائے ہرمز کھلی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اچھے نتائج مل رہے ہیں۔

امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ اور کشیدگی ختم کرانے کے لیے چین سے سفارتی کردار ادا کرنے کی درخواست کر دی ہے، جس پر بیجنگ نے امریکی پیغام تہران تک پہنچا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات کی ناکامی کی افواہیں بے بنیاد، قطر کا دوٹوک تردیدی بیان جاری

امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چینی حکام سے رابطہ کیا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے ایران کو فوجی طور پر شکست دینے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہونے اور گزشتہ 6 سے 7 ماہ کے دوران کسی امریکی فوجی کی ہلاکت نہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

چین کے ذریعے ایران تک امریکی پیغام پہنچانے کی کوشش

امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین سے رابطہ کیا اور ایران کے ساتھ جنگ ختم کرانے کے لیے بیجنگ سے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے امریکی پیغام ایران تک پہنچا دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ براہ راست رابطوں کے علاوہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ذریعے بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین کا کردار اس معاملے میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بیجنگ کے ایران کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ ایسے میں چین دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں

‘واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جے ڈی وینس نے گزشتہ ماہ ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو ایک خط بھی ارسال کیا تھا۔

اس خط کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کے امکانات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وینس کی جانب سے سفارتی رابطوں کی قیادت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے پر اعلیٰ سطح پر مذاکراتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

تاہم ان رابطوں کے نتیجے میں کسی باضابطہ معاہدے یا جنگ بندی پر اتفاق کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایرانی قیادت امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کی پالیسی پر نظر رکھے ہوئے ہے

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایرانی قیادت امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی سیاسی حالات اور داخلی انتخابی نتائج کو بھی اپنے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم سمجھتا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ، ایرانی وفد نیویارک سے روانہ، خطے میں امریکی بحری بیڑے بڑھنے لگے

ایران کے لیے امریکی پالیسی میں تسلسل یا تبدیلی کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا انحصار صرف موجودہ مذاکرات پر نہیں بلکہ مستقبل میں واشنگٹن کے سیاسی اور تزویراتی فیصلوں پر بھی ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران بھی ایران کے معاملے پر چین سے مدد طلب کی تھی۔

اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے معاملے پر چین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کوئی اچانک اقدام نہیں، بلکہ ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی بیجنگ کو اس سفارتی عمل میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔

ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا دعویٰ

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر امریکا کو بہت اچھے نتائج مل رہے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو انتہائی بری طرح شکست دی ہے اور آبنائے ہرمز اس وقت مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 سے 7 ماہ کے دوران امریکا نے اپنا کوئی فوجی نہیں کھویا۔

صدر ٹرمپ کے ان بیانات کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی کامیابی اور موجودہ صورت حال پر واشنگٹن کے مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور زمینی صورت حال کے ساتھ ان کا تقابل اہمیت رکھتا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بیان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں ایران کے جوہری پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل اور پورا مشرق وسطیٰ موجود نہ ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی اس بات کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں ایران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ امریکی صدر مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

تاہم ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے، جبکہ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات طویل عرصے سے کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

امریکا، ایران اور چین کے سفارتی مفادات

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، مشرق وسطیٰ میں دونوں ممالک کے مفادات اور اسرائیل کی سلامتی جیسے معاملات اس تنازعے کو پیچیدہ بناتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات میں پیشرفت کی امید، عالمی منڈی میں تیل آج پھر سستا

اس تناظر میں چین کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ بیجنگ کے تہران کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط ہیں، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ بھی اس کے تعلقات عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

چین کے لیے بھی مشرق وسطیٰ میں استحکام اہم ہے، کیونکہ خطے میں کسی بڑے تنازعے کے پھیلنے سے عالمی توانائی کی ترسیل، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خصوصاً آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔

Related Articles