عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسلحے کی نئی دوڑ کے دوران پاکستان نے اقوام متحدہ میں اہم سفارتی کامیابی حاصل کرلی۔ جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ تین قراردادیں بھاری اکثریت سے منظور کرلیں۔
ان قراردادوں کی منظوری عالمی امن، علاقائی استحکام، اسلحے پر کنٹرول اور جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے خطرات سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی نے تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق اپنے اجلاس میں پاکستان کی تینوں قراردادوں کی منظوری دی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں سیاسی اور عسکری تناؤ بڑھ رہا ہے۔ اسلحے کی دوڑ میں تیزی اور عالمی سطح پر اعتماد کی کمی نے امن و سلامتی کے موجودہ نظام کو بھی نئے چیلنجز سے دوچار کردیا ہے۔
تین قراردادیں، تین اہم اہداف
پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قراردادیں بنیادی طور پر تین اہم شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان میں غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کے تحفظ، روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول اور علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات شامل ہیں۔
پہلی قرارداد کا مقصد ایسی ریاستوں کو مؤثر بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کرنا ہے جو جوہری ہتھیار نہیں رکھتیں۔ اس کے تحت انہیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کی دھمکی سے تحفظ دینے کے لیے بین الاقوامی انتظامات قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس قرارداد کو 122 ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ کسی ملک نے اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ اس حمایت کو جوہری خطرات کے مقابلے میں غیر جوہری ریاستوں کے تحفظ کے تصور کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری قرارداد علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق ہے۔ اسے 180 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔
اس قرارداد کا بنیادی مقصد مختلف خطوں میں روایتی ہتھیاروں کی روک تھام، ان پر مؤثر کنٹرول اور عسکری سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات میں کمی کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
تیسری قرارداد علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق تھی۔ اسے کسی ووٹنگ کے بغیر منظور کرلیا گیا۔
یہ اقدام مختلف ممالک کے درمیان غلط فہمیوں اور کشیدگی کو کم کرنے، رابطوں کو مضبوط بنانے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت واضح کرتا ہے۔
پاکستان کی دیرینہ سفارتی کوششیں
پاکستان کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر تخفیف اسلحہ، علاقائی امن اور اعتماد سازی کے معاملات کو اجاگر کرتا آ رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ عالمی سلامتی صرف ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔ اس کے لیے ریاستوں کے درمیان اعتماد، مؤثر معاہدوں اور مشترکہ ذمہ داریوں کی ضرورت ہے۔
خصوصاً غیر جوہری ریاستوں کو جوہری حملے یا دھمکی سے تحفظ فراہم کرنے کا معاملہ پاکستان کی سفارتی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔
اسی طرح روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول اور علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات کو بھی پاکستان خطوں میں کشیدگی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔
عالمی امن کے لیے اہم پیغام
پاکستان کی پیش کردہ قراردادوں کی منظوری ایسے مرحلے پر ہوئی ہے جب عالمی سطح پر اسلحے کے کنٹرول کا نظام دباؤ کا شکار ہے۔
بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات، علاقائی تنازعات اور عسکری صلاحیتوں میں اضافے نے بین الاقوامی امن کے لیے پیچیدہ صورتحال پیدا کردی ہے۔
ایسے ماحول میں اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کی قراردادوں کو وسیع حمایت ملنا اس بات کی اہمیت ظاہر کرتا ہے کہ عالمی برادری اسلحے کے کنٹرول اور اعتماد سازی جیسے معاملات کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ قراردادیں خطرات میں کمی، باہمی اعتماد کے فروغ اور بین الاقوامی و علاقائی امن و استحکام کے لیے عملی اور تعاون پر مبنی راستے فراہم کرتی ہیں۔
تینوں قراردادوں کی منظوری پاکستان کی مسلسل سفارتی سرگرمیوں کی اہم پیش رفت ہے۔ اس سے عالمی سطح پر تخفیف اسلحہ اور امن و سلامتی سے متعلق مباحث میں پاکستان کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔