خیبرپختونخوا حکومت کا غیر سنجیدہ طرذِ حکمرانی، ضلع کرم میں اراضی تنازعہ جنگی صورت اختیار کر گیا

خیبرپختونخوا حکومت کا غیر سنجیدہ طرذِ حکمرانی، ضلع کرم میں اراضی تنازعہ جنگی صورت اختیار کر گیا

خیبرپختونخوا حکومت کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدہ طرز حکمرانی کے باعث کرم میں اراضی تنازعہ پر جاری جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔

سرکاری وسائل ذاتی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے والی خیبر پختونخوا حکومت جہاں ایک طرف وفاق اور اداروں پر حملہ آور ہور ہی ہے تو دوسری جانب اپنے ہی صوبہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور لاقانونیت کی یہ صورتحال ہے کہ ضلع کرم میں 6 روز سے جاری جنگ میں 34 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ جرگہ تاحال ناکام ہو چکا ہے ۔ کرم کے علاقے بوشہرہ کے گاوں میں مدگی سنیوں اور اہل تشیع کے گاوں احمد زئی کے درمیان ایک دوسرے کی زمینوں پر نئے مورچے بنانے کے معاملے پر جنگ شروع ہوئی ۔ یہ جنگ ضلع بھر کے دیگر علاقوں بالیش خیل، خوار کلی، سنگینہ، خومڅو، بوغکی، بدامہ کڑمان، پیواڑ، تری منگل، غوزگڑھی اور کنج علی زئی تک پھیل چکی ہےجبکہ کرم کے شہرپاڑہ چنار اور صدہ میں درجنوں مارٹر گولے گرائے گئے اور حکومت کی جانب سے قائم کردہ جس میں ضلع کے ڈپٹی کمشنر، کمانڈنٹ کرم ،ایف سی، پولیس اہل سنت اور اہل تشیع مشران پر مشتمل جرگہ نے چار روزقبل جنگ بندی کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے باوجود چاردیگر مقامات پر جنگ تاحال جاری ہے۔

مزید پڑھیں: وائس چانسلرز کی تعیناتی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا اصولی موقف سامنے آگیا

بدھ کی رات بھی دونوں فریقین کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات اتی رہی۔ تازہ لڑائیوں میں پولیس کے مطابق کم از کم 34 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق اب تک اس جنگ میں سو سے زائد افرادزخمی ہو چکے ہیں۔ مقامی صحافی طارق اورکزئی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ علاقے میں دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانیں بلکہ مال ویشی اور دیگرجانور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مقامی صحافی نبی جان نے بتایا کہ کرم میں اس وقت لڑائی کے باعث حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا کو عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے گروی رکھنے کا انکشاف

علاقے میں نقل و حرکت کے راستے بند ہیں اور ضلع بھر میں سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار پچھلے چھ دنوں سے بند پڑے ہیں۔علاقے میں خوراک، دوائیوں، پیٹرول اور دیگر ضروری اشیاء کی قلت ہو گئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے چار روز سے قائم کردہ جرگہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیرقانون آفتاب عالم نے 24 ستمبر کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہاتھا کہ وہ علاقے میں جلد از جلد جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں فریقین تعاون کر رہے ہیں، لیکن کچھ عناصر علاقے کے امن کو خراب کرنے کے لیے فرقہ واریت، نفرت اور تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں۔صوبائی وزیر نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ خود کو جنگوں سے بچائیں اور ان لوگوں کی حمایت نہ کریں جو علاقے میں شر اور فساد پھیلانے میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں تحصیل جوڈیشل کمپلیکس منصوبہ تاخیر کا شکار، لاگت میں 40 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ

کرم ایک حساس قبائلی علاقہ ہے جہاں سنی اور شیعہ اکٹھے رہتے ہیں اور وہاں وقتاً فوقتاً زمینوں کے مختلف تنازعات پر ان کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہی ہیں، جس میں دونوں طرف سےعام لوگوں کو جانی اور مالی نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ 2008 میں مری کے علاقے میں شیعہ سنی رہنماؤں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس میں اراضی تنازعات کو جلد از جلد کاغذات مال اور روایات کے مطابق حل کرنے کی بات کی گئی تھی، لیکن اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔

editor

Related Articles