وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں انتشار پھیلانے والوں کا بندوبست کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کو خیبرپختونخوا کی کابینہ کے ارکان کی جانب سے مسترد کردیا گیا، یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی نے سیاسی مفاد سے زیادہ ترجیح قومی مفاد کو دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو آن لائن ہراساں اور ٹارگٹ کرنے کی مہم ناقابل برداشت ہے، صحافیوں کے خاندانوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں دھمکانے کی بات کی جارہی ہے، ہم نے پالیسی فیصلہ کرلیا ہے ایسے لوگوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے فوجی کمپنیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل تو کردی لیکن انہوں نے کبھی اسرائیلی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی بات نہیں کی ، یہ لوگ فلسطین کے حق میں ہونے والی اے پی سی میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ گولڈ سمتھ کی فنڈنگ لینے کی یہ مجبوریاں ہیں، یہ ملکی مصنوعات کے پیچھے پڑے ہیں جو سستی ہیں اور عوام استعمال کرتے ہیں ، آئندہ بھی کریں گے، جو کچھ یہ کررہے ہیں یہ سب گولڈ سمتھ کا ایجنڈا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی فی تولہ قیمت میں 1 ہزار روپے کا اضافہ
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے ایسے عناصر کی شناخت کر رہے ہیں جو باہر بیٹھ کر ملک کی ساکھ خراب کرر ہے ہیں، کیا دنیا کے کسی ملک میں دفاعی اداروں کی تضحیک کی اجازت ہے ؟ آپ ہم پر اور حکومت کی کارکردگی پر تنقید کریں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ مدارس اصلاحات کئی سال سے جاری ہیں لیکن کل علماء کے ساتھ اجلاس اور مولانا کی جانب سے آنے والی تجاویز کو دیکھ کر ایک قابل قبول حل نکالنے کی کوشش کریں گے، ہم ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جس میں مدارس کے طلبہ کو نقصان نہ ہو، وہ انجینئر، ڈاکٹر اور کسی بھی شعبے کے ماہر بن سکیں۔

