امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تین بڑے خبر رساں اداروں کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی محدود کرنے کے معاملے میں اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
وفاقی جج ٹم کیلی نے پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے عارضی طور پر روک دیا جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے متاثرہ صحافیوں کی رسائی بحال کردی۔
عدالتی حکم کے بعد سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو سے وابستہ صحافیوں کو دوبارہ وائٹ ہاؤس میں رپورٹنگ کی اجازت دے دی گئی۔ معاملہ آزادی صحافت اور حکومتی اداروں تک میڈیا کی رسائی کے حوالے سے اہم قانونی بحث کا باعث بن گیا ہے۔
عدالتی حکم کیا تھا؟
وفاقی جج ٹم کیلی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مذکورہ تین خبر رساں اداروں کے خلاف عائد پابندی کو آئینی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس پر 14 روز کے لیے روک لگادی۔
عدالت کے مطابق صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنا اور انہیں وائٹ ہاؤس تک رسائی سے محروم کرنا آئینی تحفظات کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ جج کی جانب سے اس اقدام کے قانونی جواز کا جائزہ لیتے ہوئے انتظامیہ کے مؤقف اور پیش کیے گئے شواہد پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
قومی سلامتی کا مؤقف
ٹرمپ انتظامیہ نے تینوں میڈیا اداروں کے خلاف کارروائی کو قومی سلامتی سے متعلق خدشات کے ساتھ جوڑا تھا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق بعض معلومات اور رپورٹنگ سے متعلق امور سیکیورٹی کے تناظر میں قابل تشویش تھے۔
یہ بھی پڑھیں :صحافیوں کے داخلے پر پابندی، امریکی میڈیا ڈٹ گیا، صدر ٹرمپ کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان
تاہم وفاقی جج ٹم کیلی نے انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کے لیے موجود شواہد پر سوالات اٹھائے اور پابندی کو عارضی طور پر روکنے کا حکم جاری کردیا۔
عدالتی کارروائی کے نتیجے میں انتظامیہ کو متاثرہ صحافیوں کی رسائی سے متعلق اپنے اقدام پر دوبارہ غور کرنا پڑا۔
حکم کے باوجود صحافیوں کو روکا گیا
عدالتی حکم جاری ہونے کے باوجود صورتحال فوری طور پر مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اطلاعات کے مطابق بعض صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روکا گیا، جبکہ پولیٹیکو کے ایک رپورٹر کا پریس پاس بھی ضبط کرلیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے رسائی بحال کردی
بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی جانب سے متاثرہ صحافیوں کے پریس پاس دوبارہ فراہم کردیئے گئے اور دوپہر تک ان کی عمارت میں رسائی بحال ہوگئی۔
اس طرح وفاقی عدالت کے حکم کے بعد صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندی عملی طور پر عارضی طور پر ختم ہوگئی، تاہم معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اس حوالے سے مزید قانونی کارروائی کا امکان برقرار ہے۔
آزادی صحافت کا معاملہ
امریکا میں حکومتی اداروں اور میڈیا کے درمیان تعلقات، بالخصوص وائٹ ہاؤس کی کوریج اور صحافیوں کی رسائی، طویل عرصے سے اہم آئینی اور انتظامی بحث کا موضوع رہے ہیں۔
حالیہ معاملے میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ حکومت کن حالات میں کسی خبر رساں ادارے یا صحافی کی سرکاری اداروں تک رسائی محدود کرسکتی ہے اور اس کے لیے کس نوعیت کا قانونی جواز درکار ہوگا۔
وفاقی جج ٹم کیلی کا تازہ حکم اس معاملے میں فوری طور پر صحافیوں کو ریلیف فراہم کرتا ہے، جبکہ 14 روزہ حکم کے دوران مزید عدالتی کارروائی سے آئندہ کی صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔