مدارس رجسٹریشن بل ایکٹ بن چکا ہے، مولانا فضل الرحمٰن

مدارس رجسٹریشن بل ایکٹ بن چکا ہے، مولانا فضل الرحمٰن

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ مدارس رجسٹریشن بل ایکٹ بن چکا ہے۔ بل پر دس دن تک دستخط نہیں ہوتے تو کیا ہو خود بخودایکٹ نہیں بن جاتا؟۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر دستخط ہوگئے تو مدارس بل پر دستخط کیوں نہیں ہوئے؟ سمجھتے ہیں کہ بل کا فوری نوٹیفکیشن جاری ہونا چاہئے۔ ہم اس ملک کے قانون کیساتھ ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار فاعی تنظیمیں ، این جی اوز تعلیمی ادارے اسی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ معاہدے میں لکھا ہے کہ تمام مدارس کے بینک اکائونٹس کھول دیے جائیں۔ ہمیں بتائیں وفاق المدارس تعلیمات کے کسی ایک مدرسے کا اکائونٹ کھلا ہے؟۔

مزید پڑھیں: حکومت مذاکرات کیلئے تیار نہ ہوئی تو14دسمبر سےسول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ہو جائے گا، شوکت یوسفزئی

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کیا صدر مملکت ایک ایکٹ کے اوپر 2بار اعتراض بھیج سکتے ہیں؟۔ ایک اعتراض پر قائم مقام چئیرمین سینیٹ نے دستخط کرکے بل واپس ایوان صدر بھیجا ۔ بل پر دس دن تک دستخط نہیں ہوتے تو کیا وہ خود بخود ایکٹ نہیں بن جاتا؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مدارس رجسٹریشن بل اب ایکٹ بن چکا ہے۔ سابق صدر عارف علوی نے جب دستخط نہیں کیے تو کیا اس پر نوٹیفکیشن نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس متعلق عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔بل بنانے والے ہی اسے متنازع بنا کر لوگوں کو بل کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی موجودگی میں شہبازشریف سے بات چیت ہوئی۔

وزارت قانون نے اس پر ڈرافٹ تیار کیا اور ہم نے قبول کیا۔ اس کے بعد اس ڈرافٹ پر آصف زرداری کے پاس اعتراض کی کیا گنجائش تھی؟الیکشن سے پہلے بھی جو ڈرافٹ تیار ہوا تو وہ بھی سرکار نے بنایا تھا۔

editor

Related Articles