امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر رچرڈ گرینل کو’’ایلچی برائے خصوصی مشنز‘‘مقرر کردیا گیا۔
رچرڈ گرینل نے چند روز قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا، سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک خبر کو ری پوسٹ کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا تھا کہ عمران خان کو رہا کیا جائے۔
بعدازاں اس مطالبے پر پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
خیال رہے کہ رچرڈ گرینل ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ دور صدارت میں جرمنی میں امریکا کے سفیر تھے، انہیں ماضی میں کئی تنازعات کا بھی سامنا رہا جن میں خواتین کے حوالے بے ہودہ ٹوئٹس اور ہم جنس پرستی شامل ہے۔
امریکی اخبار کا بتانا ہے کہ وہ وزیر خارجہ بننے کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ ٹرمپ سے پہلے متعدد صدور کے تحت اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان رہے، ان کے آن لائن زہریلے پن، غیر ملکی کاروباری رابطوں اور سیاسی مخالفین اور میڈیا پر ذاتی حملوں کے رجحان سے بہت سے قدامت پسند ان سے دور ہوگئے، جس سے انہیں ٹرمپ کی طرف بڑھنے میں مدد ملی۔
برطانوی اخبار کے مطابق نومنتخب صدر نے گرینل کی مکمل ذمہ داریوں کے حوالے سے تاحال آگاہ نہیں کیا تاہم انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ وہ وینزویلا اور شمالی کوریا سمیت دنیا کے چند اہم ترین مقامات پر کام کریں گے۔
ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران، گرینل قومی انٹیلی جنس کے قائم مقام ڈائریکٹر اور سربیا اور کوسوو کے درمیان مذاکرات کے لیے صدارتی ایلچی تھے، انہوں نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
وینزویلا کے لیے بطور ایلچی گرینل کا کردار اس سال کے شروع میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جسے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا جاتا تھا۔