نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان سیزفائر برقرار رہے گی، بھارت نے دیکھ لیا کہ ان کا فضائی اورزمینی معرکوں میں کیا حال ہوا، رافیل بنانے والوں نے خود اعتراف کیا ہے، شرافت اور عزت اسی میں ہے کہ صلح کر لیں۔
چین کے دورے سے واپسی کے بعد جمعرات کو پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے دورے کو انتہائی مثبت اور کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کو 74 سال ہو چکے ہیں، چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کی ہے، پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کا اصل محرک تنازع کشمیر ہی ہے، جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہیے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات مضبوط تر ہیں اور دونوں آہنی برادر ملک ہیں، پاکستان اور چین کے درمیان اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا اگلا راؤنڈ پاکستان میں ہوگا، اس کے لیے چین کے وزیر خارجہ پاکستان آئیں گے۔ ہم بھارتی جھوٹ سے چین کو آگاہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں زیادہ نشانہ چینی باشندوں کو بنایا گیا، یہ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کے اندر دہشتگردی میں کون ملوث ہے، ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں، پاکستان بھی چاہتا ہے کہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل اور تنازعات کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، چین بھی مسئلہ کشمیر کو خطے میں عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے سی پیک 2 کے لیے چین سے بات کی جس پر چین کی حکومت بھی تیار ہو گئی ہے۔ اس میں اب افغانستان کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس حوالے سے چین میں سہ فریقی مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں، پشاور سے کابل تک موٹر وے بنانے کا پروگرام ہے، چین میں سہ فریقی پریس کانفرنس افغانستان کے کہنے پر ہی کی گئی ہے۔ پاکستان کے اوپر ایک بہت بڑا الزام ہے کہ ہم اپنے فیصلے لاگو نہیں کرتے لیکن وہ تمام فیصلے جو ہم نے 19 اپریل کو قابل کی سرزمین پر کیے تھے وہ سب کے سب پاکستان میں لاگو ہو چکے ہیں۔
اسحاق ڈار نے دہشتگردی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سمیت پورے خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے، بھارتی دہشتگرد پاکستان میں متحرک ہیں، دُنیا نے بھی مانا کہ پاکستان کا مؤقف سچ پر مبنی ہے، کیونکہ پاکستان نے پہلگام واقعے کے فوری بعد بھارت کو غیر جانبدارانہ تحقیقات میں بھرپور معاونت کی پیش کش کی تھی۔
پاکستان پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے بھارت کو کہا تھا کہ بھارت کو اس کی جارحیت پر جو جواب دیں گے وہ بتا کر دیں گے، بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کے پاکستان پر الزامات پلواما واقعے کا تسلسل ہیں، لیکن ہم نے 2019 کی طرح بھارت کا بیانیہ نہیں بننے دیا۔
انہوں نے کہا بھارت کا مؤقف مکمل طور پر ناکام ہوا ہے، حکومت پاکستان نے دہشتگردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم کیا ہے، ہم دہشتگردی کو بھی جڑ سے اکھاڑے پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں، افغانستان، چین اور پاکستان کے سہ فریقی اجلاس میں بھی طے ہوا کہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی، ہم بھی چاہتے ہیں کہ خطے سے جتنا جلدی ممکن ہو سکے دہشتگردی کا خاتمہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے اسی طرح نمٹنیں گے جس طرح ماضی میں 2013 سے 2018 تک نمٹتے رہے ہیں، اندرونی خامیوں اور خرابیوں کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، اسے دوبارہ کچل کر رکھ دیں گے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مختلف آپشنز کے استعمال میں 4 ارب روپے خرچ کر چکا ہے۔
اب حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کے لیے پیغام ہے کہ ان کے دن گنے جا چکے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ہمسایہ ملک بھارت ملوث ہے، ہمسایہ ملک کے جھوٹ دُنیا کے سامنے ہیں، ہم نے کہا کہ الزامات کی جانچ کا کوئی تو طریقہ کار ہونا چاہیے، آج خضدار سانحے پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر برقرار رہے گی، دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشران کے درمیان رابطہ برقرار ہے، دونوں ممالک کے درمیان امن والی پوزیشنز پر واپس آنے پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحیت پر پاکستان نے جوابی کارروائی مکمل طور پر پبلک کی، فجر کے وقت کارروائی شروع کی اور عوام کے ساتھ شیئر کی، اس حوالے سے ہماری حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عسکری قیادت بالکل کلیئر ہے، بھارت اور اسرائیل کے تعلقات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ممالک سے بات چیت کر کے پہلگام واقعے پر غیر جانبدارانہ انکوائری کی پیش کش کی، بھارتی وزیر دفاع کی فل ٹریلر اور پلے کی بات انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، بھارت کو پھر کہتے ہیں کہ شرافت اور عزت اسی میں ہے کہ صلح کر لیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے دیکھ لیا کہ ان کا فضائی اورزمینی معرکوں میں کیا حال ہوا، رافیل بنانے والوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے رافیل طیارے مار گرائے ہیں۔