تفصیلات کے مطابق عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
آل صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ سونےکے دام 3400 روپے بڑھ کر393700روپےہو گئے۔
اس کے علاوہ دس گرام سونے کے بھاؤ 2915 روپے کے اضافے سے 337534 روپے ہوگئے۔
پاکستان میں چاندی نے مہنگا ہونے کا نیا ریکارڈ بنادیا، فی تولا چاندی کی قیمت 63 روپے بڑھ کر 4595 روپےہوگئی۔
دوسری جانب انٹرنیشنل گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونا 34 ڈالر مہنگا ہوکر 3719 ڈالر کا ہوگیا۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ کی وجہ سے مقامی سطح پر بھی اضافے یا کمی کا امکان محدود ہے، سرمایہ کار اب بھی محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان سمیت بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور کچھ بین الاقوامی فنانشل ادارے رواں سال اس قیمتی دھات کے نرخ مزید بڑھنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
امریکہ کے فنانشل سروسز دینے والے ادارے گولڈمن ساچی کے مطابق ٹیرف کے علاوہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ مرکزی بینکوں خصوصا چین اور ابھرتی معیشتوں کی جانب سے زیادہ سونا خریدا جانا ہے۔
ماہرین یوکرین پر روسی حملوں کے بعد ماسکو کے اثاثوں کے منجمد ہونے کو بھی عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ گردانتے ہیں۔
دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے،بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدااور پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔
اسی وجہ سے مرکزی بینک سونے کے بڑے ذخیرہ کار ہیں، جو تاریخ میں کان کُنی کے ذریعے نکالے گئے مجموعی سونے کا تقریباً پانچواں حصہ رکھتے ہیں۔