پاکستان امریکا انسدادِ دہشتگردی مذاکرات، مشترکہ اعلامیہ میں دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان امریکا انسدادِ دہشتگردی مذاکرات، مشترکہ اعلامیہ میں دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور امریکا کے درمیان 4 اگست 2026 کو واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے انسدادِ دہشتگردی مذاکرات میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خاتمے، سرحدی سلامتی کے فروغ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مربوط اقدامات اور پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے پر بھی زور دیا گیا۔

اعلیٰ سطحی وفود کی قیادت، اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال

مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت انسدادِ دہشتگردی کے رابطہ کار سفیر گریگوری لوگیرفو نے جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی سفیر نبیل منیر نے کی۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیشرفت، پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف، امریکا کے ساتھ ٹیکنالوجی اور مالیاتی تعاون بڑھے گا، محمد اورنگزیب

دونوں وفود نے پاک امریکا انسدادِ دہشتگردی شراکت داری کو مزید مؤثر بنانے، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور دہشتگردی کے خلاف مربوط حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دہشتگردی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

دہشتگرد نیٹ ورکس اور سرحدی سلامتی پر خصوصی توجہ

مذاکرات کے دوران دہشتگردی کے موجودہ خطرات، سرحدی تحفظ، شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت، مالی معاونت اور دہشتگردوں کے سہولت کار نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک ان تمام عناصر کے خلاف تعاون جاری رکھیں گے جو دہشتگردی کی منصوبہ بندی، معاونت یا سہولت کاری میں ملوث ہیں۔

داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ پاکستان اور امریکا نے خطے میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں، جن میں داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی ‘فتنہ الخوارج’، بی ایل اے ‘فتنہ الہندوستان’ اور ان سے وابستہ دیگر گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے والی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ کوششیں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ علاقائی امن اور سلامتی کو درپیش خطرات کا مؤثر تدارک ممکن بنایا جا سکے۔

عوام کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم

اعلامیے میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاک امریکا دوطرفہ تعاون کا مقصد صرف دہشتگردی کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، علاقائی استحکام، اقتصادی خوشحالی اور دیرپا امن کا فروغ بھی ہے۔

دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انسدادِ دہشتگردی کے شعبے میں معلومات کے تبادلے، ادارہ جاتی تعاون اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے مشترکہ اہداف کے حصول کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی،پاکستان مذاکرات کی بحالی کے لیے پھر متحرک ، اسحاق ڈار کے اہم رابطے

پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشتگردی مذاکرات کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے، جس کا مقصد دہشتگردی، شدت پسندی اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا ہے۔

پاکستان گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری انسانی، معاشی اور دفاعی قربانیاں دے چکا ہے۔

دہشتگرد نیٹ ور کے خلاف کارروائیاں

ملکی سیکیورٹی فورسز نے مختلف عسکری کارروائیوں کے ذریعے متعدد دہشتگرد نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا، جبکہ ریاستی اداروں نے شدت پسندی کے خاتمے اور داخلی سلامتی کے استحکام کے لیے مسلسل اقدامات کیے۔

اسی تناظر میں پاکستان عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف اپنی کوششوں کو اجاگر کرتا رہا ہے، جبکہ امریکا بھی خطے میں انسدادِ دہشتگردی تعاون کو اپنی سیکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔

چوتھے پاک امریکا انسدادِ دہشتگردی مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون اب بھی دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد، پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات آج سے شروع

ایسے وقت میں جب خطے کو دہشتگردی، سرحد پار شدت پسند سرگرمیوں اور غیر ریاستی عناصر سے مسلسل خطرات لاحق ہیں، دونوں ممالک کا مشترکہ موقف علاقائی استحکام کے لیے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

اعلامیے میں مخصوص دہشتگرد تنظیموں کا نام لے کر کارروائیاں تیز کرنے پر زور دینا اس امر کی علامت ہے کہ دونوں ممالک دہشتگردی کے خطرات کے بارے میں مشترکہ تشویش رکھتے ہیں۔

اسی طرح پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں اور اقدامات کا ذکر سفارتی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ مذاکرات صرف انسدادِ دہشتگردی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے مستقبل میں بھی قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

Related Articles