اب بین الاقوامی سطح کا ڈرائیونگ پرمٹ پاکستان میں گھر بیٹھے ملے گا، حکومت کا بڑا فیصلہ

اب بین الاقوامی سطح کا ڈرائیونگ پرمٹ پاکستان میں گھر بیٹھے ملے گا، حکومت کا بڑا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بین الاقوامی ڈرائیونگ پرمٹ کے اجرا کے لیے یکساں آن لائن نظام کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت شہری گھر بیٹھے درخواست دے سکیں گے۔

اس کے ساتھ پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کا اجرا بھی نیشنل پولیس بیورو کے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ وقت، اخراجات اور غیر ضروری دفتری کارروائی میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

بین الاقوامی ڈرائیونگ پرمٹ کے نظام میں بڑی تبدیلی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت نیشنل پولیس بیورو میں ہونے والے اجلاس میں ملک بھر میں بین الاقوامی ڈرائیونگ پرمٹ کے اجرا کے لیے ایک متحد اور مکمل آن لائن نظام کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا مقصد تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں میں یکساں طریقۂ کار نافذ کرنا ہے تاکہ شہریوں کو مختلف علاقوں میں الگ الگ قواعد اور پیچیدہ مراحل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:جیب میں ڈرائیونگ لائسنس رکھنے کی جھنجھٹ ختم، ڈیجیٹل لائسنس متعارف

وزیر داخلہ نے کہا کہ نئی ڈیجیٹل سہولت خصوصاً ان افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی جو تعلیم، ملازمت، کاروبار یا سیاحت کی غرض سے بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور انہیں مختصر وقت میں بین الاقوامی ڈرائیونگ پرمٹ درکار ہوتا ہے۔

پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ بھی گھر بیٹھے دستیاب ہوگا

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے حصول کا عمل بھی مکمل طور پر آن لائن کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے نیشنل پولیس بیورو کا پورٹل استعمال کیا جائے گا، جہاں شہری گھر بیٹھے درخواست جمع کرا سکیں گے اور مقررہ طریقۂ کار مکمل ہونے کے بعد اپنی دستاویز حاصل کر سکیں گے۔

اس اقدام سے دفاتر کے بار بار چکر لگانے، طویل انتظار، غیر ضروری کاغذی کارروائی اور وقت کے ضیاع میں واضح کمی آنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شفافیت، ریکارڈ کی بہتر نگرانی اور خدمات کی رفتار میں بھی اضافہ ہوگا۔

نیشنل پولیس بیورو کو فعال ادارہ بنانے پر زور

محسن نقوی نے اجلاس کے دوران کہا کہ نیشنل پولیس بیورو کو ایک فعال، جدید اور متحرک ادارہ بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بیورو کی عمارت میں جاری تزئین و آرائش کے کام کا بھی جائزہ لیا اور مختلف اصلاحاتی اقدامات اور ڈیجیٹل منصوبوں پر بریفنگ حاصل کی۔

وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات میں سہولت، رفتار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تشکیل دیا جا سکے۔

پولیس شہدا کو خراجِ عقیدت

اجلاس کے آغاز میں یومِ پولیس شہدا کے موقع پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکا نے شہدا کی قربانیوں کو ملک کے امن و امان کے لیے ناقابلِ فراموش قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانا مزید آسان، ای خدمت مراکز پر لرنر لائسنس کی سہولت

پاکستان میں بین الاقوامی ڈرائیونگ پرمٹ اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے اجرا کا طریقۂ کار طویل عرصے سے مختلف اداروں اور صوبوں میں مختلف انداز سے نافذ رہا ہے۔

وقت کی بچٹ، دفاتر کے چکروں سے چھٹکارا

 متعدد شہریوں کو درخواست جمع کرانے، دستاویزات کی تصدیق اور منظوری کے لیے کئی دفاتر کے چکر لگانا پڑتے تھے، جس کے باعث وقت اور وسائل دونوں ضائع ہوتے تھے۔

حکومت گزشتہ چند برسوں سے مختلف سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ عوام کو ایک ہی پلیٹ فارم پر تیز، آسان اور شفاف سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ تازہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی ڈرائیونگ پرمٹ اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کا آن لائن اجرا محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈرائیونگ لائسنس کے لیے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ بالکل مفت، 13 بڑے اسپتالوں کی لسٹ جاری

اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا، تمام صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہی اور درخواستوں کی بروقت جانچ کے لیے مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فراہم کیا گیا تو شہریوں کو نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔

یہ اقدام نہ صرف سرکاری دفاتر پر دباؤ کم کرے گا بلکہ شفافیت، جواب دہی اور ریکارڈ کے محفوظ انتظام کو بھی بہتر بنائے گا۔

منصوبے کی کامیابی کا انحصار

 تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آن لائن پورٹل ہر وقت فعال رہے، درخواستوں پر بروقت کارروائی ہو، شہریوں کے ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ملک کے دور دراز علاقوں کے صارفین کو بھی یکساں سہولت میسر آ سکے۔ اگر ان پہلوؤں پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ منصوبہ عوامی خدمات کی فراہمی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Articles