فراری ڈرائیور کو تیز رفتاری مہنگی پڑ گئی، 8 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ

فراری ڈرائیور کو تیز رفتاری مہنگی پڑ گئی، 8 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ

سویٹزرلینڈ میں ٹریفک قوانین کی سختی کی ایک منفرد مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک ڈرائیور کو تیز رفتاری پر 2 لاکھ 90 ہزار امریکی ڈالر (موجودہ شرح تبادلہ کے مطابق تقریباً 8 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ عائد کیا گیا، جو آج بھی دنیا کے بڑے ٹریفک جرمانوں میں شمار ہوتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوری 2010 میں ایک شخص اپنی سرخ فراری ٹیسٹاروسا کو 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد والی سڑک پر 137 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلا رہا تھا، جس پر عدالت نے بھاری جرمانہ عائد کیا۔

اس غیر معمولی جرمانے کی وجہ صرف رفتار نہیں تھی بلکہ سویٹزرلینڈ کا منفرد قانونی نظام بھی تھا۔ وہاں بعض سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں پر جرمانے کی رقم ڈرائیور کی مالی حیثیت، آمدنی اور اثاثوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :غیر معمولی ذہانت، 18 سالہ نوجوان دنیا کے کم عمر ترین پروفیسر بن گیا

عدالتی ریکارڈ کے مطابق متعلقہ ڈرائیور کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 22.7 ملین امریکی ڈالر تھی، اسی لیے اس پر لاکھوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ماہرین کے مطابق اس قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جرمانہ ہر شہری پر یکساں اثر ڈالے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر۔ اس نظام کے تحت دولت مند افراد بھی صرف اپنی مالی حیثیت کی وجہ سے قانون شکنی کے نتائج سے نہیں بچ سکتے۔

یہ واقعہ آج بھی گنیز ورلڈ ریکارڈز میں دنیا کے مہنگے ترین ٹریفک جرمانوں میں شامل ہے اور سویٹزرلینڈ کے سخت ٹریفک قوانین کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔

editor

Related Articles