پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں بدھ کے روز سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 100 ڈالر کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے اثرات فوری طور پر مقامی صرافہ بازاروں پر بھی مرتب ہوئے۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 10 ہزار روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 37 ہزار 936 روپے تک پہنچ گئی جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 8 ہزار 573 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 75 ہزار 459 روپے ہو گئی۔
چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فی تولہ چاندی 273 روپے مہنگی ہو کر 6 ہزار 624 روپے تک پہنچ گئی، جس سے قیمتی دھاتوں کی مجموعی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان مزید مضبوط ہو گیا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 100 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 155 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان بڑھنے کے باعث عالمی گولڈ مارکیٹ میں تیزی آئی، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مقامی مارکیٹوں میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی یا سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں مزید اضافہ ہوا تو آئندہ چند روز کے دوران سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر عالمی حالات میں بہتری آتی ہے تو قیمتوں میں استحکام یا کمی کا امکان بھی موجود ہے۔
صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد زیورات خریدنے والے صارفین محتاط ہو گئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔