عبداللہ شفیق نے 49 سال بعد ویسٹ انڈیز میں نیا ریکارڈ قائم کردیا

عبداللہ شفیق نے 49 سال بعد ویسٹ انڈیز میں نیا ریکارڈ قائم کردیا

پاکستان کے اوپنر عبداللہ شفیق نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں شاندار 160 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر 49 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔

وہ 1977 کے بعد ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں 150 سے زیادہ رنز بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹر بن گئے، جبکہ ان کی ذمہ دارانہ اننگز نے پاکستان کو میچ میں مضبوط پوزیشن بھی فراہم کر دی۔

کوئنز پارک اوول میں عبداللہ شفیق کی یادگار بیٹنگ

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے تحت کوئنز پارک اوول میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز عبداللہ شفیق نے انتہائی پختہ مزاجی اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے بولنگ اٹیک کا بھرپور اعتماد سے سامنا کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 160 رنز اسکور کیے۔

یہ بھی پڑھیں:دوسرا ٹیسٹ، عبداللہ شفیق کی شاندار سنچری، پاکستان 387 رنز پر آؤٹ، ویسٹ انڈیز پر 43 رنز کی برتری

ان کی اننگز میں 15 دلکش چوکے اور 3 بلند و بالا چھکے شامل تھے، جبکہ انہوں نے طویل وقت کریز پر گزار کر پاکستان کی اننگز کو استحکام فراہم کیا۔ مشکل وکٹ پر ان کی تحمل مزاج بیٹنگ کو ماہرین نے اعلیٰ معیار کی ٹیسٹ کرکٹ کی مثال قرار دیا۔

49 سال بعد تاریخی ریکارڈ اپنے نام

عبداللہ شفیق ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ کرکٹ کے دوران 150 سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستان کے پانچویں بیٹر بن گئے۔ اس سے قبل آخری مرتبہ یہ اعزاز 1977 میں ماجد خان نے حاصل کیا تھا، جب انہوں نے گیانا میں 167 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

یوں عبداللہ شفیق نے تقریباً نصف صدی بعد اس تاریخی ریکارڈ کو دوبارہ پاکستانی کرکٹ کے نام کر دیا، جو ان کی مستقل مزاجی اور صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان کی اننگز کو مضبوط بنیاد

عبداللہ شفیق کی اننگز محض ذاتی سنگِ میل نہیں بلکہ ٹیم کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ ایک اینڈ سنبھال کر کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو ایک مضبوط مجموعہ ترتیب دینے کا موقع ملا، جبکہ ویسٹ انڈیز کے بولرز کو طویل عرصے تک دباؤ میں رکھا گیا۔

ان کی بیٹنگ میں دفاع اور جارحیت کا متوازن امتزاج نمایاں رہا، جس نے ٹیسٹ کرکٹ کے تقاضوں سے بھرپور ہم آہنگی کا اظہار کیا۔

پاکستانی بیٹرز کے لیے ویسٹ انڈیز کی سرزمین ہمیشہ ایک مشکل امتحان رہی ہے۔ تیز رفتار وکٹیں، باؤنس اور میزبان بولرز کی مؤثر بولنگ کے باعث یہاں بڑی اننگز کھیلنا ہمیشہ ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

1977 میں ماجد خان کی تاریخی 167 رنز کی اننگز کے بعد کوئی پاکستانی بیٹر ویسٹ انڈیز میں 150 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کر سکا تھا۔

مزید پڑھیں:دوسرا ٹیسٹ ، پاکستان نے ویسٹ انڈیز کیخلاف 2 وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنا لیے

عبداللہ شفیق نے اپنی شاندار کارکردگی سے اس طویل انتظار کا خاتمہ کرتے ہوئے پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ ریکارڈ میں ایک نئی یادگار شامل کر دی۔

عبداللہ شفیق کی یہ اننگز صرف ایک انفرادی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ بھی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں وہ تکنیکی اعتبار سے پاکستان کے قابلِ اعتماد اوپنرز میں شمار ہونے لگے ہیں، اور مشکل غیر ملکی کنڈیشنز میں اس نوعیت کی اننگز ان کی ذہنی مضبوطی اور کلاس کی عکاسی کرتی ہے۔

49 سال بعد ویسٹ انڈیز میں 150 سے زیادہ رنز کی اننگز کھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عبداللہ شفیق دباؤ میں بھی بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر وہ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہیں تو نہ صرف پاکستان کی ٹیسٹ بیٹنگ مزید مستحکم ہوگی بلکہ مستقبل میں وہ ملکی کرکٹ کے نمایاں بلے بازوں کی صف میں بھی مستقل جگہ بنا سکتے ہیں۔ ان کی یہ اننگز آئندہ برسوں تک پاکستان کی یادگار ٹیسٹ کارکردگیوں میں شمار کی جائے گی۔

Related Articles