ورلڈ بینک نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان، کے لیے روزگار ختم کرنے کے بجائے معاشی ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں صرف 4.5 فیصد موجودہ ملازمتیں فوری طور پر جنریٹو اے آئی سے متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ 16.2 فیصد ملازمتوں میں اے آئی کی بدولت نمایاں پیداواری بہتری متوقع ہے۔
تاہم ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کو بجلی، تیز رفتار انٹرنیٹ، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، مقامی زبانوں کے ڈیٹا اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر ان بنیادی مسائل کو حل نہ کیا گیا تو اے آئی عدم مساوات، غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار اور معاشی فرق میں اضافہ کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الفابیٹ، ایمیزون، میٹا، مائیکروسافٹ اور اوریکل سمیت5 بڑی امریکی اے آئی کمپنیوں کے 2026 میں مجموعی سرمایہ جاتی اخراجات 775 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو پاکستان کی تقریباً 408 ارب ڈالر کی نامیاتی معیشت سے تقریباً دو گنا زیادہ ہیں۔
ورلڈ بینک کے چیف اکانومسٹ اندرمیت گل نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو بڑے اے آئی ماڈلز بنانے کے بجائے موجودہ ٹیکنالوجی کو مقامی زبانوں اور ضروریات کے مطابق ڈھالنے پر توجہ دینی چاہیے۔
رپورٹ میں حکومتوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بجلی، ڈیجیٹل رابطوں، کمپیوٹنگ سہولیات، افرادی قوت کی مہارت اور مقامی ڈیٹا کے نظام میں سرمایہ کاری کریں تاکہ زراعت، صحت، تعلیم اور سرکاری خدمات میں اے آئی کے عملی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔