اوپیک پلس نے مارکیٹ کو حیران کرتے ہوئے دسمبر کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اس اضافے کو روکنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم مارکیٹ کی توقعات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ عالمی طلب کے غیر یقینی منظرنامے کے پیشِ نظر احتیاطی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہانہ اجلاس میں ان 8 اوپیک پلس ارکان نے، جو رضاکارانہ طور پر پیداوار میں کمی کر رہے ہیں، جن میں سعودی عرب اور روس جیسے بڑے پیداواری ممالک شامل ہیں، اپنی مجموعی پیداوار کے ہدف میں 1 لاکھ 37 ہزار بیرل یومیہ اضافے پر اتفاق کیا۔ یہ اضافہ مارکیٹ کی پیش گوئیوں کے مطابق ہے اور اکتوبر اور نومبر میں ہونے والے تدریجی اضافوں کے تسلسل کو برقرار رکھتا ہے۔
اپریل سے اب تک ان 8 ممالک نے پیداوار کے اہداف میں تقریباً 29 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کیا ہے، جو عالمی فراہمی کا تقریباً 2.7 فیصد بنتا ہے۔ تاہم، گروپ نے اعلان کیا کہ وہ جنوری، فروری اور مارچ 2026 میں پیداوار میں مزید اضافہ روک دے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ’موسمی عوامل‘ اور ’مارکیٹ استحکام برقرار رکھنے‘ کے لیے کیا گیا ہے، حالانکہ اوپیک پلس نے عالمی معیشت کو ’مستحکم‘ اور ’مارکیٹ کے بنیادی عوامل کو صحت مند‘ قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ دراصل احتیاطی رویہ ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ سال کی پہلی سہ ماہی عموماً طلب کے لحاظ سے کمزور رہتی ہے، لیکن اوپیک پلس غالباً آئندہ سال کی غیر یقینی عالمی مارکیٹ کے پیشِ نظر محتاط طرزِ عمل اختیار کر رہا ہے۔2026 کے لیے مختلف عالمی اداروں کے تخمینوں میں واضح فرق ہے۔
اوپیک کی رپورٹ کے مطابق تیل کی طلب میں 13.8 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ متوقع ہے، جس سے فراہمی اور طلب کا توازن برقرار رہے گا۔ دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے پیش گوئی کی ہے کہ طلب میں صرف 7 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہوگا، جبکہ فراہمی میں اضافے سے 40 لاکھ بیرل یومیہ تک کا فاضل تیل پیدا ہوسکتا ہے۔ رائٹرز کے ایک ستمبر پول کے مطابق یہ فاضل مقدار 16 لاکھ بیرل یومیہ کے قریب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کا یہ فیصلہ ’زیادہ فراہمی‘ اور اس سے جڑی قیمتوں میں ممکنہ گراوٹ سے بچاؤ کے لیے ایک ’حفاظتی اقدام‘ ہے۔ یہ اقدام موجودہ جغرافیائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ’انشورنس‘ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
حال ہی میں امریکا کی جانب سے روسی تیل کمپنیوں پر پابندیاں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روسی تیل کے بڑے خریدار ممالک بھارت اور چین پر دباؤ نے عالمی منڈی میں روسی تیل کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کی اکثریت کا خیال ہے کہ اگر خریداری میں وقتی کمی بھی ہوئی تو وہ عارضی ہوگی اور جلد ہی روسی برآمدات اپنی سابقہ سطح پر واپس آ جائیں گی۔
فراہمی کے محاذ پر مارکیٹ کا رجحان زیادہ تر روسی برآمدات کے تسلسل اور غیر اوپیک ممالک میں بڑھتی ہوئی پیداوار پر منحصر ہے۔
دوسری جانب ایشیا اب بھی عالمی تیل طلب کا سب سے بڑا مرکز ہے، جو دنیا بھر کے سمندری راستے سے لائے گئے خام تیل کا تقریباً دو تہائی حصہ درآمد کرتا ہے۔ ایل ایس ای جی آئل ریسرچ کے مطابق اکتوبر میں ایشیائی درآمدات بڑھ کر 2 کروڑ 85 لاکھ 90 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو ستمبر کے 2 کروڑ 71 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں 14 لاکھ 90 ہزار بیرل کا اضافہ ہے۔
یہ اضافہ زیادہ تر چین اور بھارت میں دیکھا گیا، جو دنیا کے دو سب سے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک ہیں۔ اکتوبر میں چین کی درآمدات بڑھ کر 1 کروڑ 22 لاکھ 10 ہزار بیرل یومیہ ہو گئیں، جبکہ بھارت کی درآمدات 50 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ رہیں، جو ستمبر کے 47 لاکھ 90 ہزار بیرل کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
دونوں ممالک اپنی قیمتوں کے لحاظ سے حساس خریداری کے لیے مشہور ہیں، جب قیمتیں مناسب ہوں تو درآمدات بڑھا دیتے ہیں اور جب قیمتوں میں اضافہ ہو تو خریداری کم کر دیتے ہیں۔ ستمبر میں کم درآمدات اس وقت دیکھنے میں آئیں جب جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان مختصر تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ اکتوبر میں درآمدات میں اضافہ قیمتوں کے کم ہونے اور اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے ساتھ دیکھا گیا۔
اوپیک پلس کے لیے اب اصل چیلنج توازن قائم رکھنا ہے۔ اگر طلب برقرار رکھنی ہے تو قیمتیں اتنی کم ہونی چاہئیں کہ ایشیائی خریدار، خصوصاً چین، مزید تیل خریدنے کے لیے راغب ہوں، جو اب بھی اپنے تجارتی اور اسٹریٹیجک ذخائر میں اضافہ کر رہا ہے۔ لیکن اگر اوپیک پلس قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پیداوار کو محدود کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس سے طلب میں کمی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اوپیک پلس کا تازہ ترین فیصلہ اس کی ’احتیاطی امید‘ کی عکاسی کرتا ہے، ایک ایسا رویہ جو قلیل مدتی ایڈجسٹمنٹ کے لیے لچک فراہم کرتا ہے جبکہ عالمی طلب، پابندیوں اور مارکیٹ کے متضاد رجحانات کے دوران استحکام برقرار رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔