سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے عدم اعتماد کے بعد اپنا پہلا انٹرویو آزاد ڈیجیٹل کو دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا نے میرے نام سے جو بیان منسوب کیا وہ دراصل معرکہ حق سے متعلق تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پاکستان پر اثر انداز کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی ایسی کی تیسی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اختلاف صرف مودی کی فسطائیت سے ہے، بھارت کے معصوم شہریوں سے ہمارا کوئی دشمنی نہیں ہے۔ بھارت کو مجھ سے نفرت ہے کیونکہ میں آزاد کشمیر کا وزیراعظم اور مقبوضہ کشمیر کا نمائندہ ہوں۔ “
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے بھارت کی سابقہ جارحانہ کارروائیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ “بھارت نے ماضی میں فالس فلیگ کیا اور پاکستان کے دو کوے مار کر بدلہ لینے کا اعلان کیا، لیکن ہم نے جواب میں مونچھوں والی چیز پکڑ کر دنیا کو دکھا دی، جسے اب دنیا ابھینندن کے نام سے جانتی ہے۔ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہوتے مودی دوبارہ رسوائی چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے۔”
افغان جنگوں کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “افغان جنگوں کا پاکستان پر براہ راست اثر ہوا، ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ نے معیشت کو تباہ کیا، لیکن ان کے لیے فیلڈ مارشل جیسا ایمانی قوت والا سپہ سالار ضروری تھا۔”
سابق وزیراعظم نے اپنے ایمان اور عوامی خدمت کے جذبے کا بھی اظہار کیا: “میرا ایمان ہے کہ اختیار اور اقتدار اللہ کی امانت ہے۔ میرے جانے کے بعد آزاد کشمیر کی مائیں اور بہنیں روتی تھیں، اور میرے لیے اس سے بڑا معاوضہ کوئی نہیں ہے۔”
انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تحریک کے بارے میں کہا کہ “یہ تحریک صرف میری حکومت تک محدود تھی، مگر اب ان کے پیچھے چھپے ہاتھ بے نقاب ہونے والے ہیں۔ آزاد کشمیر کی پرامن فضا کسی ایڈونچرازم کی متحمل نہیں ہو سکتی، اور اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد چند ماہ میں یہ گروپس عوام کے سامنے جواب دینے کے قابل نہیں رہیں گے۔”
چوہدری انوار الحق کی یہ گفتگو نہ صرف سیاسی تجزیہ پیش کرتی ہے بلکہ آزاد کشمیر کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔