سعودی عرب نے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ایک تاریخی اور بنیادی پیش رفت کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے لیے ملک میں جائیداد کی خرید و فروخت اور سرمایہ کاری کی راہیں باضابطہ طور پر کھول دی ہیں۔
حکومت کے مطابق اس نئے قانونی ڈھانچے کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں کو سعودی پراپرٹی مارکیٹ کا حصہ بنانا اور ملک میں جاری اقتصادی اصلاحات کو مزید تیز کرنا ہےرئیل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی نے بتایا کہ تازہ فریم ورک کے تحت نہ صرف سعودی شہری بلکہ دیگر ممالک کے افراد اور عالمی کمپنیوں کو بھی رہائشی، تجارتی اور زرعی نوعیت کی زمین میں سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔
یہ فیصلہ سعودی وژن کے تحت ہونے والی اصلاحات کا اہم جزو ہے جس کا ہدف ملکی معیشت کو متنوع بنانا اور عالمی سرمایہ کو راغب کرنا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق نئے قوانین کا مقصد تعمیرات کے معیار میں بہتری، روزگار کے نئے مواقع کی فراہمی، شہری منصوبہ بندی میں جدت اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی مجموعی فعالیت کو بڑھانا ہے۔
یہ خبربھی پڑھیں :سعودی عرب میں ملازمت اور تنخواہوں سے متعلق بڑی خبر آگئی
ابتدائی مرحلے میں غیر ملکیوں کو وہیں جائیداد خریدنے کی اجازت دی جائے گی جہاں سعودی کابینہ کی جانب سے منظوری دی جائے۔
ان مخصوص علاقوں کے رہنما اصول، زوننگ ضوابط اور سرمایہ کاری کی شرائط جلد جاری کی جائیں گی سعودی عرب اس وقت نیوم، قدیہ اور ریڈ سی گلوبل جیسے عالمی معیار کے میگا پراجیکٹس پر تیزی سے کام کر رہا ہے جہاں کثیر سرمایہ کاری کی توقع کی جا رہی ہے۔
Saudi Arabia to allow foreign buyers to purchase homes, land and farms from January, with Mecca and Madinah restricted to Muslims. pic.twitter.com/z8RaVZMX7l
— Globe Eye News (@GlobeEyeNews) November 21, 2025


