مہنگائی کے حوالے ادارہ شماریات نے نئی رپورٹ جاری کردی

مہنگائی کے حوالے ادارہ شماریات نے نئی رپورٹ جاری کردی

حکومت کے تخمینوں کے مطابق نومبر میں مہنگائی میں ماہانہ بنیادوں پر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح 6.16 فیصد رہی  جبکہ وزارت خزانہ نے اس کا تخمینہ 5 سے 6 فیصد کے درمیان لگایا تھا، جولائی سے نومبر کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.01 فیصد رہی اور نومبر میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں مہنگائی میں 0.40 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء میں نمایاں اضافہ ہوا ہے سب سے زیادہ پیاز کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چکن 17 فیصد مہنگا ہوا۔ انڈے کی قیمت میں 8 فیصد اور مچھلی کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک ماہ کے دوران آلو کی قیمت میں 2.67 فیصد، تازہ پھل میں 2.27 فیصد اور گندم کی مصنوعات میں 1.61 فیصد اضافہ ہوا۔ کوکنگ آئل کی قیمت میں 1.55 فیصد، گندم میں 1.12 فیصد، اور دودھ میں 1 فیصد اضافہ ہوا۔

نومبر میں بجلی کے چارجز میں 7.11 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس 3.70 فیصد مہنگے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں بھی 1.48 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا سالانہ بنیادوں پر فوڈ آئٹمز کی قیمتوں میں 5.53 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

یہ خبربھی پڑھیں :مہنگائی سے پریشان شہریوں کے لئے اہم خبر

تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض اشیاء کی قیمتیں کم ہوئیں  ٹماٹر کی قیمت میں ایک ماہ میں 53 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، دال چنا 7.69 فیصد، سبزیاں 5.90 فیصد، بیسن 4.68 فیصد اور دال مونگ 2 فیصد تک سستی ہوئیں۔

 ادارہ شماریات کے مطابق نومبر میں مہنگائی میں مجموعی طور پر معمولی اضافہ ہوا، مگر بعض ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی  جس سے صارفین کی خریداری پر جزوی اثر پڑا۔

گزشتہ روز وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو کچھ ریلیف دیا ہے عوام امید لگائے بیٹھیں ہیں کہ حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو  کنٹرول کر کے عوام کو مزید ریلیف دینے کے لئے بھی اقدامات کرے گی ۔

editor

Related Articles