بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے، جس کے بعد وہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کے لئے چلی گئی ہیں ۔ جیل انتظامیہ کے مطابق آج عمران خان سے وکلا اور اہلِ خانہ کی ملاقات کا دن مقرر ہے، اسی وجہ سے اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ جیل کے قریبی علاقوں، خصوصاً گورکھپور بائی گل اور ملحقہ آبادیوں میں واقع سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں چھٹی بھی دے دی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ ہجوم یا غیر معمولی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں 6 رکنی وکلا ٹیم بھی آج اڈیالہ جیل پہنچی۔ دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان اور پی ٹی آئی قیادت نے ملاقات تک احتجاج اور دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ جیل کے باہر سیاسی کارکنوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ اسلام آباد میں بھی مختلف مقامات پر پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران بھی شدید احتجاج کیا اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ارکان پارلیمنٹ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقات کو غیر ضروری طور پر روکا جا رہا ہے جبکہ عدالتیں واضح احکامات جاری کر چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی گنجائش نہیں، صوبہ آئین و قانون کے مطابق چل رہا ہے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق ملک کی سیاسی فضا میں برداشت اور مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، لیکن حکومت مذاکرات کے لیے تیار نظر نہیں آ رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آج کی ملاقات اور احتجاجی سرگرمیاں ملکی سیاست میں مزید گرما گرمی پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی قیادت کے مطالبات کے بعد حکومتی ردعمل پر بھی سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔