اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھاتری مظالم کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور متعلقہ قراردادوں پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مظاہرہ ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم اور نیویارک و واشنگٹن میٹروپولیٹن علاقوں میں مقیم کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔
اس پرامن مگر پرجوش احتجاج میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں کے علاوہ دیگر کمیونٹیز کے افراد نے بھی بھرپور شرکت کی۔
مظاہرین میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی بڑی تعداد میں شامل تھے جنہوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ شرکا نے آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔
بھارتی وزیر خارجہ کے خطاب پر شدید تحفظات
مظاہرین کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا جس میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھارتی وزیر خارجہ کو خطاب کا موقع دیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
شرکا کا کہنا تھا کہ بھارت مسلسل مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ بھارت پر لگائے گئے انسانی حقوق کی پامالیوں کے ان الزامات کی غیر جانبدارانہ اور عالمی سطح پر تحقیقات کروائی جائیں۔
اقوام متحدہ کے حکام کو یادداشت کی پیشکش
احتجاج کے اختتام پر مظاہرین کے نمائندہ وفد نے اقوام متحدہ کے حکام کو ایک خصوصی یادداشت بھی پیش کی۔ اس یادداشت میں ’مسئلہ کشمیر‘ کے پرامن، جمہوری اور منصفانہ حل کے لیے فوری سفارتی اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
مسئلہ کشمیر کی تاریخ
’مسئلہ کشمیر‘ گزشتہ 7 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متعدد قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے، تاہم بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ان قراردادوں پر تاحال عمل نہیں ہو سکا۔
اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہو چکی ہے اور علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
عالمی برادری کا کردار
اقوام متحدہ کے دروازے پر ہونے والا یہ احتجاج دراصل عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی ادارہ دنیا بھر کے تنازعات پر بات کر رہا ہے، کشمیر کے سلگتے ہوئے مسئلے پر اس کی مجرمانہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
بھارتی نمائندے کو ایک ایسے عالمی فورم پر بولنے کا موقع دینا، جس کی اپنی قراردادوں کو بھارت کھلے عام پامال کر رہا ہے، سفارتی سطح پر ایک بڑے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
اس نوعیت کے مظاہرے واضح کرتے ہیں کہ کشمیری عوام کسی صورت اپنے بنیادی حقوق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
جب تک عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی مداخلت نہیں کریں گی، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔