شائقین کے لیے بڑی خوشخبری، کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

شائقین کے لیے بڑی خوشخبری، کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے حوالے سے اہم اور حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے مطابق ساؤتھ ایشین فیڈریشن گیمز، سیف گیمز، اگلے سال مارچ 2027 میں پاکستان میں منعقد ہوں گے۔ اس فیصلے کو ملک میں کھیلوں کے فروغ اور بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس کی واپسی کے تناظر میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہونے والے ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن عارف سعید نے شرکت کی، جبکہ وفاقی سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی نے حکومت پاکستان کی نمائندگی کی۔ اجلاس کے دوران حکومت پاکستان کی جانب سے سیف گیمز کے کامیاب، محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق انعقاد کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کے باکسنگ مقابلے، ٹیکنالوجی اور کھیلوں کی دنیا میں نیا سنگ میل

اجلاس میں طے پایا کہ ساؤتھ ایشین گیمز 23 مارچ سے 31 مارچ 2027 تک منعقد کیے جائیں گے، جس کے بعد میزبان ملک پاکستان کو باضابطہ طور پر تاریخوں کی منظوری دے دی گئی۔ اس موقع پر ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل کے حکام نے پاکستان کی تیاریوں، انفراسٹرکچر اور انتظامی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کو ابتدائی طور پر ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی 2023 کے لیے دی گئی تھی، تاہم پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی درخواست پر ایونٹ کو پہلے مارچ 2024 تک ملتوی کیا گیا۔ بعد ازاں گیمز کے لیے 23 جنوری سے 6 فروری 2026 کی نئی تاریخیں مقرر کی گئیں، جبکہ لاہور کو مرکزی میزبان شہر اور فیصل آباد، اسلام آباد اور کراچی کو مختلف مقابلوں کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں؍لاہور میں دوسری انٹرنیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ، ’فائٹ فار گلوری‘ ایونٹ میں 15 ممالک کے عالمی باکسرز کی شمولیت

تاہم متعدد بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس، انتظامی امور اور شیڈول کے مسائل کے باعث ساؤتھ ایشین گیمز کو ایک بار پھر موخر کرنا پڑا، جس کے بعد اب مارچ 2027 کی نئی تاریخوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان میں علاقائی سطح کے بڑے اسپورٹس ایونٹس کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے نہ صرف کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی مسابقت میسر آئے گی بلکہ ملک کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *