وفاقی حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 4 روپے 58 پیسے تک کمی کر دی ہے، جس سے مہنگی بجلی سے متاثرہ صنعتوں اور کاروباری طبقے کو بڑا ریلیف ملے گا۔
اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جو فروری 2026 سے نافذ ہوگا۔
اس نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کے نرخوں میں کمی سے صنعتوں پر 101 ارب روپے کراس سبسڈی کا بوجھ صفر ہوگیا، بنیادی ٹیرف 33 روپے 58 پیسے سے کم ہوکر 29 روپے 54 پیسے مقرر کردیا گیا ، کمی کے بعد صنعتوں کا ٹیرف اب ساڑھے 11 سینٹ فی یونٹ ہوگیا ہے ۔
انڈسٹری کے تحفظات پر پاور ڈویژن نے نیپرا میں درخواست دائر کی تھی، 11 فروری کو نیپرا نے سماعت کے بعد فیصلہ حکومت کو ارسال کیا تھا جس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر تفصیلی بات چیت کر رہا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی نئے اقدام کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے طبقے پر نہیں پڑنا چاہیے۔