پشاور ہائی کورٹ نے پشاور یونیورسٹی کے طلبا کو اسکالرشپ کی رقم نہ ملنے کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے اور صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں پشاور یونیورسٹی کے طلبا کی اسکالرشپ کی رقم کی عدم ادائیگی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود طلبا کو اسکالرشپ کی رقم ادا نہیں کی جا رہی۔
پشاور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ حل کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کو 2 ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ ماہ ملازمین کو تنخواہیں 16 تاریخ کو ادا کی گئی تھیں۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ صوبے کا تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے، قدیم یونیورسٹی کو بھی سنبھالا نہیں جاسکا اور صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ یونیورسٹی کی زمینیں کوڑیوں کے دام کرائے پر دی جا رہی ہیں، یونیورسٹی میں شعبے بند ہو رہے ہیں جبکہ طلبا کی دلچسپی بھی ختم ہو رہی ہے۔
عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبا کا اسکالرشپ کا مسئلہ حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو نوٹس جاری کردیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔