کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کا جھگڑا، ایک جاں بحق، متعدد زخمی،اعلیٰ سطحی انکوائری شروع

کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کا جھگڑا، ایک جاں بحق، متعدد زخمی،اعلیٰ سطحی انکوائری شروع

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے افسوسناک واقعے میں ایک قیدی جاں بحق ہوگیا جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

واقعے نے جیل میں قیدیوں کی حفاظت اور انتظامی نگرانی سے متعلق اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

تین ڈی آئی جیز پر مشتمل کمیٹی تشکیل 

سیکرٹری داخلہ پنجاب کی ہدایت پر تین ڈی آئی جیز پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔کمیٹی میں ڈی آئی جی پریزن لاہور محسن رفیق شامل ہیں۔

جیل مینول میں یہ درج نہیں کہ قیدی کا علاج اس کی منشا کے مطابق ہونا چاہیے،وزیر قانون

ڈی آئی جی پریزن ہیڈکوارٹر شوکت فیروز بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ڈی آئی جی پریزن انسپکشن نوید رؤف کو بھی انکوائری کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے واقعے کے فوری بعد تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے۔

زخمی قیدیوں سے تحقیقات

اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی نے زخمی قیدیوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

جیل کے متعلقہ عملے سے بھی واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

انکوائری میں جھگڑے کی وجوہات اور واقعے کے دوران پیش آنے والے حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔

جیل انتظامیہ کی جانب سے نگرانی اور بروقت کارروائی سے متعلق امور بھی تحقیقات کا حصہ بن سکتے ہیں۔

واقعے کے ذمہ داران کا تعین انکوائری کے نتائج کی روشنی میں کیا جائے گا۔

ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان

سیکرٹری داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ افسوسناک واقعے کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔

ذمہ دار قرار پانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :عمران خان جیسی طبی سہولیات کا مطالبہ، اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا وفاقی آئینی عدالت سے رجوع

اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے کو محض جیل کے اندر پیش آنے والے جھگڑے تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔

انکوائری کے ذریعے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

زخمی قیدیوں کو طبی امداد

سیکرٹری داخلہ پنجاب نے زخمی قیدیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

سیکرٹری داخلہ کی ہدایت پر آئی جی پریزن میاں سالک جلال اور ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ جنرل ہسپتال میں موجود ہیں۔

دونوں افسران زخمی قیدیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles