پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے اور خیبرپختونخوا و وفاق کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے قبائلی مشران متحرک ہوگئے، ضم اضلاع کے مشران نے 100 رکنی جرگہ تشکیل دے دیا۔
جرگے میں تمام ضم اضلاع کے قبائلی مشران شامل ہیں، جو صوبے اور وفاق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
گورنر سے ملاقات
قبائلی جرگے کے مشران آج گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات کریں گے، جس میں ان سے صوبے اور وفاق کے درمیان معاملات میں مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی جائے گی،جرگہ مشران کے مطابق صوبے اور وفاق کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تناؤ کا نقصان خیبرپختونخوا کے عوام کو ہو رہا ہے، اس لیے کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی قیادت کے درمیان رابطے ضروری ہیں۔
وزیراعلیٰ سے بھی ملاقات
جرگہ مشران کا کہنا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا کی نگرانی میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور بعد ازاں وفاقی حکومت کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی جائے گی،ملاقاتوں کا مقصد وفاق اور صوبے کے درمیان جاری اختلافات کو کم کرنا اور ایسے معاملات پر بات چیت کا راستہ نکالنا ہے جن کی وجہ سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لانگ مارچ سے گریز کی اپیل
جرگہ کے رکن ملک خان مرجان وزیر نے کہا ہے کہ احتجاج اور لانگ مارچ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ صوبے کے مسائل کا حل لانگ مارچ میں نہیں بلکہ بات چیت اور مذاکرات میں ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تاکہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل پر توجہ دی جاسکے۔
عوامی مفاد مقدم
قبائلی مشران کا کہنا ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات براہ راست صوبے کے عوام پر پڑ رہے ہیں،100 رکنی جرگے کی تشکیل کو اسی تناظر میں ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے سیاسی قیادت کے درمیان رابطہ بڑھانے، کشیدگی کم کرنے اور احتجاج کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ تلاش کی جائے گی۔