وزیراعظم کے معاون اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پولیس کو مطلوبہ وسائل اور سہولیات میسر نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال ابتر ہے اور پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس کے پاس دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے مناسب تعداد میں بلٹ پروف گاڑیاں اور جدید ہتھیار موجود نہیں، جس کے باعث پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے۔
امن کے لیے سہولیات ضروری
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پولیس کو مطلوبہ وسائل، جدید آلات اور ضروری سہولیات فراہم کرنا ہوں گی،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں پولیس کی استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے۔
سہیل آفریدی پر تنقید
وزیراعظم کے معاون نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ریاستی امور پر مطلوبہ توجہ نہیں دے رہی،اختیار ولی خان نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے تقابل کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور سہیل آفریدی سے بہتر تھے۔
تحریک انصاف پولیس کو تابع بنانا چاہتی
اختیار ولی خان نے کہا کہ تحریک انصاف پولیس کو اپنے تابع بنانا چاہتی ہے، جس کے باعث صوبے میں امن وامان کی صورتحال مزید متاثر ہو رہی ہے،انہوں نے بعض صوبائی وزرا سے متعلق بھی کہا کہ بعض وزرا کی گاڑیاں اسمگلنگ کے الزام میں ضبط کی جاچکی ہیں، جبکہ بعض وزرا پر ڈرگ مافیا کے سہولت کار ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
4 اکتوبر کا احتجاج
27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو 4 اکتوبر کا انتظار نہیں اور ان کے بقول 27 ستمبر کی طرح 4 اکتوبر بھی مس کال ثابت ہوگی،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنا پلان تیار کر لیا ہے۔