سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے تقریباً 20 فیصد اکاؤنٹس جعلی ہیں جنہیں فراڈ، ہراسانی، بلیک میلنگ اور دیگر سائبر جرائم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اجلاس سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سینیٹر سید وقار مہدی ، سینیٹر جان محمد، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، صوبائی پولیس حکام اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 14 کروڑ افراد سائبر اسپیس میں سرگرم ہیں، جبکہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شرح تقریباً 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق یہ جعلی اکاؤنٹس زیادہ تر آن لائن فراڈ، دھمکیوں، ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے جرائم میں استعمال ہوتے ہیں۔
اجلاس میں پیکا 2025 میں حالیہ ترامیم پر بھی بریفنگ دی گئی جس کے مطابق اب کوئی بھی عام پولیس اسٹیشن سائبر کرائم کی ایف آئی آر درج کرنے کا مجاز نہیں رہا۔ ایسے تمام مقدمات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھجوائے جائیں گے۔ تاہم اگر کسی آن لائن سرگرمی سے روایتی جرم جنم لے تو الگ الگ ایف آئی آر درج کی جا سکیں گی۔
حکام نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ میں بھی این سی سی آئی اے کی طرز پر علیحدہ سائبر کرائم ادارے قائم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پیکا ایکٹ کے تحت 29 مختلف سائبر جرائم کی نشاندہی کی گئی ہےجبکہ پنجاب میں 2020 سے 2025 کے دوران 370 سائبر کرائم مقدمات درج کیے گئے۔ پنجاب پولیس کے مطابق صوبے میں اس وقت تقریباً 500 آن لائن جرائم کے کیسز زیر تفتیش ہیں۔
این سی سی آئی اے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارے کو گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً ایک لاکھ 54 ہزار شکایات موصول ہوئیں۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے این سی سی آئی اے کو مزید مضبوط بنانے اور تمام متعلقہ کیسز ترجیحی بنیادوں پر ادارے کو منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی۔