آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کی جانب سے حکومت بنانے کی کوشش کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حکومت سازی روکنے کے لیے قانونی ٹیم نے باقاعدہ پٹیشن تیار کرلی ہے جس کی پارٹی قیادت نے منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ہائی کورٹ میں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔
پیپلز پارٹی اپنی درخواست میں عدالت سے حکومت سازی کا عمل روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کرے گی۔ پارٹی مؤقف کے مطابق آزاد کشمیر اسمبلی کی تکمیل سے قبل نئی حکومت تشکیل دینا قانونی اور آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے پونچھ ڈویژن کے باقی دو اضلاع میں بھی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جب تک ان اضلاع میں انتخابات نہیں ہوتے آزاد کشمیر اسمبلی مکمل نہیں ہوسکتی۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نامکمل اسمبلی کی موجودگی میں حکومت سازی آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگی۔ اسی بنیاد پر پارٹی عدالت سے حکومت سازی کا عمل روکنے اور باقی نشستوں پر انتخابات کرانے کی درخواست کرے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی مسلم لیگ ن کی حکومت بننے کی مخالفت کا اعلان کرچکی ہے۔
گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا تھا جس میں پارٹی قیادت نے مسلم لیگ ن کی حکومت کو روکنے کے لیے سیاسی اور قانونی راستے اختیار کرنے پر غور کیا تھا۔
اب پٹیشن دائر ہونے کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا معاملہ عدالت تک پہنچنے کا امکان ہے جس سے خطے کی سیاسی صورتحال مزید اہم ہوگئی ہے۔