امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے امریکا سے متعلق مبینہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ دراصل سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید ہیں نہ کہ موجودہ امریکا کی مجموعی صورتحال پر براہِ راست تبصرہ۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ شی جن پنگ کے مبینہ الفاظ امریکا ایک زوال پزیر قوم ہے دراصل جوبائیڈن انتظامیہ کے دوران ہونے والی پالیسیوں اور فیصلوں کی عکاسی کرتے ہیں ان کے مطابق ان پالیسیوں نے امریکا کو معاشی اور سیاسی طور پر نقصان پہنچایا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے 16 ماہ کے دوران امریکا نے دوبارہ عالمی سطح پر مضبوطی حاصل کی ہے ان کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں بہتری روزگار کے مواقع میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اس پیش رفت کے واضح ثبوت ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں کھلی سرحدوں مہنگے ٹیکسوں جرائم میں اضافے اور متنازع سماجی و تجارتی پالیسیوں نے امریکا کو کمزور کیا تاہم اب صورتحال تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تائیوان کے مسئلے کو اگر درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران تائیوان اور دیگر عالمی امور پر امریکا اور چین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں تاہم دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے اور مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔