ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت اب ٹیکس کے دائرے میں؟

ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت اب ٹیکس کے دائرے میں؟

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کرپٹو کرنسی سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گینز ٹیکس (CGT) عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے مشاورت کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 37 کے دائرہ کار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی ٹیکس کے تابع بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں پیٹرول گاڑیوں کا دور ختم ہونے والا ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ ٹیکس کی شرح 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہو سکتی ہے، تاہم حتمی شرح کا اعلان بجٹ پیش کیے جانے کے بعد متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے قائم ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کرپٹو کرنسی لین دین کی دستاویز بندی اور ٹیکسیشن کے حوالے سے سفارشات تیار کر لی ہیں۔ ان سفارشات میں غیر رجسٹرڈ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے شرکاء کی شناخت اور نگرانی کے لیے مختلف اقدامات بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکہ نے ایران کی کروڑوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمند کر دی

حکومتی حلقوں کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک جامع ریگولیٹری اور ٹیکس فریم ورک تشکیل دینا ہے، تاکہ کرپٹو سرمایہ کاری کو قانونی دائرے میں لاتے ہوئے معیشت کے روایتی شعبوں پر اس کے ممکنہ اثرات کو بھی متوازن رکھا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO) کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو بھجوائی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 56 کروڑ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ تعداد تقریباً 90 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :واٹس ایپ میں ایک اہم اور طویل عرصے سے زیرِ انتظار فیچر متعارف

میڈیارپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کرپٹو اپنانے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے، تاہم اس شعبے میں ہونے والی بڑی مالی سرگرمیاں اب بھی ٹیکس نظام سے باہر ہیں، جس کے باعث حکومت کو ممکنہ محصولات سے محروم رہنا پڑ رہا ہے۔

زیر غور تجاویز کے مطابق کرپٹو اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع پر’’فرسٹ اِن، فرسٹ آؤٹ‘‘ (FIFO) طریقہ کار کے تحت ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ اثاثوں کو زیادہ عرصے تک رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے مختلف ٹیکس شرحوں کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

وزارت خزانہ کے پالیسی یونٹ نے تصدیق کی ہے کہ کرپٹو کرنسی کی ٹیکسیشن اور ریگولیشن کا معاملہ ابھی زیر غور ہے اور اس حوالے سے ماہرین اور متعلقہ فریقین سے مشاورت جاری ہے۔

editor

Related Articles