خلا میں خطرے کی گھنٹی، 5 خلانورد ہنگامی کیپسول میں محصور

خلا میں خطرے کی گھنٹی، 5 خلانورد ہنگامی کیپسول میں محصور

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر ہوا کے اخراج کی صورتحال اچانک سنگین ہونے کے بعد پانچ خلانوردوں کو احتیاطی طور پر ہنگامی کیپسول میں منتقل کر دیا گیا، تاہم بعد ازاں خطرہ کم ہونے پر الرٹ واپس لے لیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روسی ماہرین خلائی اسٹیشن کے روسی حصے میں موجود ایک دراڑ کی مرمت کر رہے تھے۔ اس دوران ہوا کے اخراج سے متعلق خدشات بڑھ گئے، جس پر امریکی خلائی ادارے ناسا نے فوری حفاظتی اقدامات کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں :مچھروں کا خاتمہ اب ٹیکنالوجی کے ذریعے، دلچسپ ایجاد سامنے آگئی

ناسا کی ترجمان بیتھنی اسٹیونز کے مطابق مشن کنٹرول نے اسٹیشن پر موجود خلانوردوں کو احتیاطی تدبیر کے طور پر فوری طور پر ’’اسپیس ایکس کرو ڈریگن‘‘ کیپسول میں منتقل ہونے کی ہدایت کی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری انخلا ممکن بنایا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خلانورد تقریباً دو گھنٹے تک ہنگامی حالت میں رہے۔ بعد ازاں ہوا کے اخراج کی شرح کا دوبارہ جائزہ لیا گیا جبکہ روسی ماہرین نے مرمتی کام عارضی طور پر روک دیا، جس کے بعد ناسا نے الرٹ ختم کرتے ہوئے عملے کو معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں :اب بجلی بنائیں ریلوے ٹریکس سے،منفرد منصوبہ توجہ کا مرکز

روسی خلائی ادارے کے مطابق معائنے کے دوران دو مختلف مقامات پر ہوا کے اخراج کا سراغ ملا۔ ان میں سے ایک مقام کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ دوسرے مقام پر مرمتی کام جاری ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے عملے یا خلائی اسٹیشن کے نظام کو فوری خطرہ لاحق نہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مختلف ممالک کے سات خلانورد موجود ہیں، جو سائنسی تحقیق اور دیگر مشنز پر کام کر رہے ہیں۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خلا میں معمولی تکنیکی خرابی بھی بڑی ہنگامی صورتحال اختیار کر سکتی ہے، جس کے باعث خلائی ادارے ہر وقت ہائی الرٹ رہتے ہیں۔

editor

Related Articles