وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ایک لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم اور 22 ارب روپے کی سبسڈی جاری کر دی۔
فیصلہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے حالیہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے گندم کی فراہمی اور سبسڈی کے بجٹ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ امجد حسین نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ گلگت بلتستان میں گندم کی مسلسل اور بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور سبسڈی کے نظام کو برقرار رکھا جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وفاقی حکومت نے اس درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے گندم کی فراہمی اور مالی سبسڈی کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے وفاقی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے گلگت بلتستان کے تقریباً 20 لاکھ افراد کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے عوام کے لیے گندم بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے بروقت فراہمی نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اسی مقصد کے تحت وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کے ہر معاملے کو مؤثر انداز میں وفاق کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تاکہ بروقت فیصلے ممکن بنائے جا سکیں۔
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی فراہمی اور سبسڈی کی منظوری سے نہ صرف غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی بلکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بھی کسی حد تک ریلیف ملے گا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ گندم کی ترسیل اور تقسیم کے عمل کو شفاف اور بروقت مکمل کیا جائے تاکہ اس فیصلے کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق وفاق کی جانب سے منظور کی گئی گندم اور سبسڈی گلگت بلتستان میں خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں سپلائی کے نظام کو بھی مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ اس فیصلے کو علاقے کے عوام کے لیے ایک اہم معاشی اور سماجی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔