ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ شدید دباؤ، پابندیوں اور چیلنجز کے باوجود ایران آج بھی ایک باوقار اور خودمختار ملک کے طور پر دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے عزم، قربانیوں اور قومی اتحاد نے دشمن کے تمام منصوبے ناکام بنا دیے، جبکہ سپریم لیڈر کی قیادت ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
اپنے خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران کی موجودہ طاقت کا اصل سرچشمہ اس کے عوام ہیں، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر ایران مضبوطی سے قائم ہے تو اس کی وجہ عظیم ایرانی قوم کا حوصلہ، استقامت اور اتحاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ بحرانوں کے دوران دشمن نے یہ تصور کیا تھا کہ وہ صرف 24 گھنٹوں کے اندر ایران کی حکومت کا خاتمہ کر دے گا، لیکن ایرانی عوام کی غیر معمولی یکجہتی اور مزاحمت نے ان تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ ان کے مطابق قومی اتحاد نے ایران کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔
صدر پزشکیان نے سپریم لیڈر کی قیادت کو ایران کی سب سے بڑی قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ان تک براہ راست رسائی آسان نہیں، تاہم ان کی رہنمائی اور فیصلے ملک کے لیے استحکام اور اعتماد کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رہبر انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی معاہدے پر اکثریت کی رائے قائم ہوتی ہے تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، جو قومی مشاورت اور اجتماعی فیصلوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بیشتر شہید کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کے پاس ذاتی گھر بھی نہیں تھے۔ ان کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا اور انہوں نے ذاتی مفادات کے بجائے وطن کے دفاع اور قومی مفاد کو ترجیح دی۔ صدر نے کہا کہ ہمارے شہداء عام شہریوں کی طرح زندگی گزارتے تھے اور یہی ان کی عظمت کی سب سے بڑی علامت ہے۔
صدر پزشکیان نے جنگ کے دوران شہید ہونے والے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 120 معصوم بچوں کی شہادت پر انہیں جس قدر دکھ پہنچا، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا انسانی سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا، تاہم ان قربانیوں نے ایرانی عوام کے حوصلے کو مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ہر شہری کے ساتھ بلاامتیاز اور یکساں سلوک کیا جائے۔ ان کے مطابق عوام کا اعتماد برقرار رکھنا اور انہیں انصاف فراہم کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہے۔
صدر پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، عزت اور عوامی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ اور سازشوں کے باوجود متحد رہ کر ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور یہی اتحاد مستقبل میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت رہے گا۔