اسرائیل-ایران کشیدگی سے عالمی منڈیوں میں ہلچل، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

اسرائیل-ایران کشیدگی سے عالمی منڈیوں میں ہلچل، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

 اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جبکہ توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی قیمتیں آنے والے دنوں میں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کے صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 96.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.35 فیصد اضافے کے ساتھ 93.89 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔

مشرق وسطیٰ کے اہم خام تیل گریڈ مربن کی قیمت بھی 90 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی توانائی مارکیٹ میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں چونکہ مشرق وسطیٰ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی فوجی تنازع کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا-ایران معاہدے پر غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دباؤکا شکار

مزید یہ کہ سرمایہ کار ممکنہ رسد کے بحران سے بچنے کے لیے تیل کی خریداری بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر مزید دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔

 معیشت پر اثرات

تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا براہ راست اثر ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، اگر عالمی منڈی میں یہی رجحان برقرار رہا تو مختلف ممالک میں مہنگائی کی نئی لہر بھی جنم لے سکتی ہے۔

عوامی سطح پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے ہو سکتے ہیں، جس سے روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ کاروباری حلقے بھی توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں کیا ہوسکتا ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہوں گے ،  اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مزید تیز ہو سکتا ہے تاہم اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو مارکیٹ میں استحکام واپس آنے کا امکان بھی موجود ہے۔

فی الحال سرمایہ کار اور حکومتیں دونوں خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف توانائی کی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت کی سمت کا بھی تعین کر سکتا ہے۔

editor

Related Articles