ملک پائند خان کلی کے قبائل کا بڑا فیصلہ، ٹی ٹی پی کے خلاف لشکر کشی کا اعلان

ملک پائند خان کلی کے قبائل کا بڑا فیصلہ، ٹی ٹی پی کے خلاف لشکر کشی کا اعلان

صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے ملک پائند خان کلی میں ایک تاریخی اور انتہائی اہم عوامی جرگے کا انعقاد کیا گیا، جس میں قبائلی عمائدین، مشران، نوجوانوں اور مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ملک پائند خان کی صدارت میں ہونے والے اس جرگے میں شرکا نے کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مظالم کے خلاف متفقہ طور پر سخت ترین مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان کے خلاف باقاعدہ ’لشکر کشی‘ (قبائلی فوج کشی) کا اعلان کر دیا ہے۔ قبائلی مشران نے واضح کیا ہے کہ اب دہشتگردوں کو ان کی سرزمین پر چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

سلمان بازئی کا لرزہ خیز واقعہ اور جرگے کا شدید غم و غصہ

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی سربراہ ملک پائند خان نے انتہائی رقت آمیز اور جذباتی انداز میں ٹی ٹی پی کے مظالم کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے حال ہی میں نشانہ بننے والے مقامی نوجوان سلمان بازئی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:چـہکان اور میران شاہ میں امن کانفرنسز اور قبائلی جرگہ کا انعقاد، علما، مشران کا فتنتہ الخوارج کے خاتمے کے عزم کا اظہار

ملک پائند خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے معصوم نوجوان سلمان بازئی کو بے دردی سے قتل کیا گیا، لیکن ان ظالموں کا ظلم یہیں ختم نہیں ہوا۔ آج 28 دن گزر چکے ہیں، اس نوجوان کی لاش اب بھی بے یار و مددگار پہاڑوں میں پڑی ہے۔

دہشتگردوں نے نہ تو اسے کفن دینے دیا اور نہ ہی اب تک دفنانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ کیسا اسلام اور کیسی پشتون ولی ہے کہ ہمیں اپنے ہی سگے بیٹے کو سپردِ خاک کرنے جیسے بنیادی اور مذہبی حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے‘؟

مقامی آبادی کی دربدریاں اور برداشت کا پیمانہ لبریز

قبائلی مشران نے جرگے کو بتایا کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے مقامی آبادی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ملک پائند خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمارے ہنستے بستے گھر تباہ کیے گئے، ہمیں اپنی ہی آبائی زمینوں سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا اور ہمارے معصوم خاندان دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔ جب تم (دہشتگردوں) نے ہمیں اپنی ہی زمین پر سکون سے رہنے نہیں دیا، تو اب ہم بھی تمہیں اس مٹی پر چین کی سانس نہیں لینے دیں گے‘۔

جرگے میں شریک تمام قبائل نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان عناصر کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ شرکا نے فلک شگاف نعروں کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ ریاستِ پاکستان اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ٹی ٹی پی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

قبائلی لشکر اور دہشتگردی کے خلاف قومی مزاحمت

ہزاروں سالہ قبائلی تاریخ میں ’لشکر کشی‘ یا ’قومی اشر‘ کا فیصلہ اسی وقت کیا جاتا ہے جب پانی سر سے اونچا ہو جائے اور قبیلے کی غیرت، جان و مال پر براہِ راست حملہ ہو۔ ماضی میں بھی سوات، دیر، باجوڑ اور وزیرستان کے علاقوں میں جب بھی مقامی قبائل نے دہشت گردوں کے خلاف لشکر تیار کیے، تو دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں:تیراہ صورتحال پر باڑہ سیاسی اتحاد کا اہم جرگہ اختتام پذیر، صوبائی حکومت کی بدانتظامی پر شدید تنقید، امن تحریک کے آغاز کا اعلان

ٹی ٹی پی حالیہ کچھ عرصے سے بلوچستان کے پشتون بیلٹ اور خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں دوبارہ اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے لیے وہ مقامی نیٹ ورکس کو ڈرانے دھمکانے اور سلمان بازئی جیسے نوجوانوں کو عبرت کا نشان بنانے کی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے تاکہ کوئی ان کے خلاف آواز نہ اٹھائے۔

لیکن 28 دن تک ایک لاش کو پہاڑوں میں بے گور و کفن رکھنا ایک ایسی حیوانیت تھی جس نے قبائلی معاشرے کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور نتیجے میں یہ تاریخی جرگہ وجود میں آیا۔

ملک پائند خان کلی کے اس جرگے کا فیصلہ ٹی ٹی پی کے خلاف جاری جنگ میں ایک بڑا ‘ٹرننگ پوائنٹ’ (سنگِ میل) ثابت ہو سکتا ہے۔ عسکری لحاظ سے، گوریلا جنگ یا دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک مقامی آبادی سیکیورٹی فورسز کا ساتھ نہ دے۔

Related Articles