خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں عدالتی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور دفتری امور میں سستی و رکاوٹ کا خاتمہ یقینی بنانے کے لیے ایک انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامی اقدام اٹھایا گیا ہے۔
ضلعی عدالتوں کے عملے کے لیے دفتری اوقات کے دوران کسی بھی قسم کے اسمارٹ فونز کے استعمال پر مکمل اور فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت اب ملازمین کو ڈیوٹی پر پہنچتے ہی اپنے موبائل فونز متعلقہ انچارج کے پاس جمع کرانے ہوں گے۔
اس سلسلے میں ضلعی عدلیہ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے باقاعدہ اور باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس کا نفاذ فوری طور پر ہوگا۔
جاری کردہ سخت ترین اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالتی عملہ دفتری اوقات کے دوران سوشل میڈیا، گیمز یا ذاتی پیغامات کے لیے اسمارٹ فون کا استعمال نہیں کر سکے گا۔
ڈیوٹی پر موجود تمام عملے کے موبائل فونز متعلقہ برانچ سربراہ کی تحویل میں رہیں گے اور دفتری اوقات کے آغاز پر ہی برانچ انچارج ان فونز کو اپنے پاس ایک محفوظ جگہ پر رکھ لیں گے۔
ہنگامی صورتحال کے لیے سخت ضابطہ
سرکاری اعلامیے میں ملازمین کے خاندانوں اور بیرونی افراد کے لیے بھی گائیڈ لائن جاری کی گئی ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ دفتری اوقات کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال یا شدید ایمرجنسی کی صورت میں عملے سے براہِ راست رابطے کے لیے ان کے ذاتی موبائل فونز دستیاب نہیں ہوں گے، بلکہ ایسی صورت میں صرف عدالت کے سرکاری لینڈ لائن نمبر کے ذریعے ہی متعلقہ ملازم سے رابطہ قائم کیا جا سکے گا۔
رجسٹرار آفس نے عدالتی عملے کو ان احکامات کی خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی کا انتباہ دیا ہے اور دفتری اوقات میں اسمارٹ فونز سے دور رہنے کی سخت ہدایت کی ہے تاکہ عدالتی امور اور دفتری کاموں میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہو اور سائلین کے کیسز وقت پر نمٹائے جا سکیں۔